حدیث نمبر: 1453
- (يا حُمَيراءُ! أتحبِّينَ أن تنظُرِي إليهم؟! يعني: إلى لعِبِ الحبشةِ ورقصِهم في المسجدِ) .
حافظ محفوظ احمد
زوجہ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کہتی ہیں : حبشی لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” حمیراء ! کیا تو ان کو ( کھیلتا ) دیکھنا چاہتی ہے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر کھڑے ہو گئے ، میں آئی اور اپنی ٹھوڑی آپ کے کندھے پر رکھی اور اپنے چہرے کو آپ کے رخساروں کا سہارا دے ( کر کھڑی ہو گئی ) ۔ وہ لوگ اس دن بار بار یہ کلمہ دہراتے تھے : ” «ابا القاسم طيبا» “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا : ” کیا اب کافی ہے ؟ “ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول جلدی نہ کریں ۔ آپ کھڑے رہے اور ( کچھ دیر کے بعد ) پھر پوچھا : ” کیا اب کافی ہے ؟ “ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول جلدی نہ کریں ۔ دراصل مجھے ان لوگوں کی طرف دیکھنا پسند نہ تھا ۔ میں تو چاہتی تھی کہ عورتوں کو پتہ چل جائے کہ آپ کے نزدیک میرا اور میرے نزدیک آپ کا کیا مقام ہے ۔