کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: ہر زمان و مکان میں مسلمان کو تکلیف سے بچایا جائے
حدیث نمبر: 1327
- " لا يقتل بعضكم بعضا [ولا يصب بعضكم (بعضا) ] ، وإذا رميتم الجمرة فارموا بمثل حصا الخذف ".
حافظ محفوظ احمد
سلیمان بن عمرو بن احوص اپنی ماں سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وادی کے اندر سے جمرے کو کنکریاں ماریں ، اس حال میں کہ آپ سوار تھے ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ، ایک آدمی آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا جو آپ پر پردہ کر رہا تھا ۔ میں نے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کون تھا ؟ انہوں نے کہا: کہ وہ فضل بن عباس تھا ۔ لوگ بری تعداد میں اکٹھے ہوئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کوئی کسی کو قتل نہ کرے اور نہ کوئی کسی کو زخمی کرے اور جب تم لوگ جمرے کو کنکریاں مارو تو وہ ( سائز میں اس کنکری کے برابر ہوں جو ) بیچ کی دو انگلیوں میں رکھ کر پھینکی جاتی ہے ( یعنی لوہے اور چنے وغیرہ کے دانے کے برابر ہو) ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1327