حدیث نمبر: 1239
- " ألا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده ولا مولود على والده ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے سنا : ” خبردار ! ہر مجرم صرف اپنے حق میں برا کرے گا ، والد اپنے بیٹے کی حق میں برا کر سکتا ہے نہ بیٹا والد کے حق میں ، ( یعنی دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہوں گے ) ۔ “
حدیث نمبر: 1240
- " أما إنك لا تجني عليه، ولا يجني عليك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے باپ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: ” یہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ “ انہوں نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے ، میں اس بات پر گواہی دے سکتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آگاہ ہو جا ! تو اس کے حق میں برا کر سکتا ہے نہ وہ تیرے حق میں ۔ “
حدیث نمبر: 1241
- " لا تجني أم على ولد لا تجني أم على ولد ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ماں اپنے بیٹے کے حق میں برا نہیں کر سکتی ، ماں اپنے بیٹے کے حق میں برا نہیں کر سکتی ( یعنی وہ اپنے جرم کی خود ذمہ دار ہو گی ) ۔ “
حدیث نمبر: 1242
- " لا تجني عليه ولا يجني عليك ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا خشخاش عنبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” یہ تیرا بیٹا ہے ؟ “ میں نے کہا: جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اس کے حق میں برا نہیں کر سکتا اور وہ تیرے حق میں برا نہیں کر سکتا ( یعنی تم دونوں اپنے اپنے جرائم کے خود ذمہ دار ہو ) ۔ “
حدیث نمبر: 1243
- " لا تجني نفس على أخرى ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی کسی کے حق میں برا نہیں کر سکتا ( یعنی ہر کوئی اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہے ) ۔ “