کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: کیا بلا اجازت کسی کے باغ سے پھل کھانا جائز ہے؟
حدیث نمبر: 1228
- (مَنْ مَرَّ بحائطٍ فلْيأكُلْ ولا يحْمِلْ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر کوئی کسی باغ کے پاس سے گزرتا ہے تو وہ اس کا ( ‏‏‏‏پھل وغیرہ ) کھا لے اور اٹھا کر نہ لے جائے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1228
حدیث نمبر: 1229
- " أقبلت مع سادتي نريد الهجرة، حتى دنونا من المدينة، قال: فدخلوا المدينة وخلفوني في ظهرهم، قال: فأصابني مجاعة شديدة، قال: فمر بي بعض من يخرج من المدينة فقالوا لي: لو دخلت المدينة فأصبت من ثمر حوائطها، فدخلت حائطا فقطعت منه قنوين، فأتاني صاحب الحائط، فأتى بي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأخبره خبري، وعلي ثوبان، فقال لي: " أيهما أفضل؟ "، فأشرت له إلى أحدهما ، فقال: " خذه "، وأعطى صاحب الحائط الآخر وخلى سبيلي ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ ، جو آبی اللحم کے غلام تھے ، کہتے ہیں : میں اپنے آقاؤں کے ساتھ آیا ، ہمارا ارادہ ہجرت کا تھا ، ہم مدینہ کے قریب آ پہنچے ۔ وہ خود مدینہ میں داخل ہو گئے اور مجھے پیچھے چھوڑ گئے ۔ مجھے سخت بھوک لگی ۔ میرے پاس سے مدینہ سے نکلنے والے بعض لوگ گزرے اور مجھے کہا: ( ‏‏‏‏بہتر ہے کہ ) تو مدینہ میں چلا جائے اور باغوں کا پھل کھا لے ۔ پس میں ایک باغ میں داخل ہوا اور کھجوروں سے بھرے ہوئے دو گچھے توڑ لیے ۔ ( ‏‏‏‏ اللہ کا کرنا کہ ) باغ کا مالک آ پہنچا ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری بات بتا دی ۔ میں نے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : ”کون سا کپڑا افضل ہے ؟“ میں نے ایک کپڑے کی طرف اشارہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”( ‏‏‏‏یہ کپڑا ) تو خود لے لے ۔“ اور دوسرا کپڑا باغ کے مالک کو دے دیا اور مجھے رہا کر دیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1229