حدیث نمبر: 1190
- " يجيء الرجل آخذا بيد الرجل فيقول: يا رب! هذا قتلني. فيقول الله له: لم قتلته؟ فيقول: لتكون العزة لك. فيقول: فإنها لي. ويجيء الرجل آخذا بيد الرجل فيقول: إن هذا قتلني. فيقول الله له: لم قتلته؟ فيقول: لتكون العزة لفلان! فيقول: إنها ليست لفلان، فيبوء بإثمه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”( قیامت والے دن ) ایک آدمی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑ کر آ کر کہے گا : اے میرے رب اس نے مجھے قتل کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : تو نے اس کو کیوں قتل کیا ہے ؟ وہ کہے گا : تیری بڑائی کی خاطر ۔ اللہ تعالیٰ کہے گا : بلاشبہ بڑائی میرے لیے ہی ہے ۔ ایک اور آدمی دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑ کر آ کر کہے گا : اس نے مجھے قتل کیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا : تو نے اسے قتل کیوں کیا ؟ وہ کہے گا : فلاں کی بڑائی کی خاطر ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ بڑائی فلاں کا حق نہیں ہے ، سو وہ اس کے گناہ کا بوجھ بھی اٹھائے گا ۔“