حدیث نمبر: 1189
- " إذا أصبح إبليس بث جنوده، فيقول: من أضل اليوم مسلما ألبسته التاج، قال: فيخرج هذا فيقول: لم أزل به حتى طلق امرأته، فيقول: أوشك أن يتزوج. ويجيء هذا فيقول: لم أزل به حتى عق والديه، فيقول: يوشك أن يبرهما. ويجيء هذا فيقول: لم أزل به حتى أشرك، فيقول: أنت أنت! ويجيء هذا فيقول: لم أزل به حتى قتل، فيقول: أنت أنت ويلبسه التاج ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابلیس بوقت صبح اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا ۔ ( جب لشکر واپس آتے ہیں تو ) ان میں سے ایک کہتا ہے : میں اسے ورغلاتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ ابلیس کہتا ہے : ممکن ہے کہ وہ دوبارہ شادی کر لے ۔ ایک آ کر کہتا ہے : میں اسے پھسلاتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کر دی ۔ وہ کہتا ہے : ( یہ تو کوئی بڑا کام نہیں کیونکہ ) ممکن ہے کہ وہ بعد میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے ۔ ایک آ کر کہتا ہے : میں اس کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ اس نے شرک کا ارتکاب کر لیا ۔ ابلیس کہتا ہے : تو نے تو کمال کر دیا ہے ۔ ( اتنے میں ) ایک اور آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ اس نے قتل کر دیا ۔ ابلیس کہتا ہے : ( شاباش ) تو نے تو اخیر کر دی ہے ، پھر اسے تاج پہنا دیتا ہے ۔“