کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 1185
- " لما نزلت هذه الآية التي في * (الفرقان) *: * (والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق) * عجبنا للينها، فلبثنا ستة أشهر، ثم نزلت التي في * (النساء) *: * (ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه) * حتى فرغ ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا زید بن ثابت کہتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ جان کو قتل کرتے ہیں مگر حق کے ساتھ ۔“ ( ‏‏‏‏سورہ فرقان : ۶۸ ) تو ہمیں اس آیت میں دی گئی لچک اور نرمی پر بڑا تعجب ہوا ، چھ مہینے گزر گئے ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : ”جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کا بدلہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوا اور اس پر لعنت کی . . . . آخر تک ۔“ ( ‏‏‏‏ ‏‏‏‏سورۂ نساء : ۹۳ )
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1185
حدیث نمبر: 1186
- " أبى الله أن يجعل لقاتل المؤمن توبة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے مومن کے قاتل کی توبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الحدود والمعاملات والاحكام / حدیث: 1186