حدیث نمبر: 821
- " أتاني جبريل عليه السلام من عند الله تبارك وتعالى، فقال: يا محمد إن الله عز وجل قال لك: إني قد فرضت على أمتك خمس صلوات، من وافاهن على وضوئهن ومواقيتهن وسجودهن، فإن له عندي بهن عهد أن أدخله بهن الجنة ومن لقيني قد أنقص من ذلك شيئا ـ أو كلمة تشبهها ـ فليس له عندي عهد إن شئت عذبته وإن شئت رحمته ".
حافظ محفوظ احمد
ابوادریس خولانی کہتے ہیں : میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا تھا، ان میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔ انہوں نے نماز وتر (کے حکم پر) بحث کی ، بعض نے کہا کہ نماز وتر واجب ہے، جبکہ بعض نے اس سنت قرار دیا۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ( اپنی رائے پیش کرتے ہوئے) کہا: میں تو گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےسنا: ”میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سےجبریل آئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے: میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو آدمی وضو، اوقات اور سجود وغیرہ سمیت ان کا پورا حق ادا کرے گا، اس سے میرا معاہدہ ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو آدمی ان کی ادائیگی میں کمی کر کے مجھے ملے گا تو اس کے لیے میرے ہاں کوئی عہد نہیں ہے ، چاہوں تو عذاب دوں اور چاہوں تو رحم کر دوں۔“
حدیث نمبر: 822
- " الذي لا ينام حتى يوتر حازم ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں عشاء کی نماز مسجد نبوی میں پڑتا تھا ، اس کے بعد ایک رکعت وتر پڑھتا تھا۔ مجھے کہا جاتا تھا: ابواسحاق! آپ نماز وتر کی ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں، زیادہ نہیں پڑھتے ، (کیا وجہ ہے)؟ میں کہتا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”وہ دور اندیشی سے کام لے رہا ہے جو سونے سے پہلے وتر ادا کر لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 823
- " أوتر صلى الله عليه وسلم بخمس، وأوتر بسبع ".
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) پانچ اور (کبھی) سات وتر پڑھتے تھے۔