حدیث نمبر: 817
- " أما أنت يا أبا بكر فأخذت بالوثقى، وأما أنت يا عمر فأخذت بالقوة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”تم کس وقت نماز وتر ادا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: عشاء کے بعد رات کے اول حصے میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) سے پوچھا: ”اور عمر تم کب (پڑھتے ہو)؟ انہوں نے کہا: رات کے آخری حصے میں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر تم نے تو محتاط عمل اختیار کیا ہے اور عمر تم نے قوی (یعنی مشکل) عمل اپنایا ہے۔“
حدیث نمبر: 818
- " إن الله زادكم صلاة وهي الوتر، فصلوها بين صلاة العشاء إلى صلاة الفجر ".
حافظ محفوظ احمد
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ابو بصرہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے ، جو کہ وتر ہے، اس نماز عشاء اور نماز فجر کے درمیانے وقفے میں پڑھ لیا کرو۔“ ابو تمیم نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ابو بصرہ کی طرف چل دیے (اس کے پاس پہنچے اور) پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہے جو عمرو نے بیان کی ہے؟ ابو بصرہ نے کہا: (جی ہاں) میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 819
- " إنما الوتر بالليل ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی: صبح ہو گئی ہے اور میں نے نماز وتر نہیں پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر تو رات کی نماز ہے۔“ اس نےکہا: اے اللہ کے نبی! صبح ہو گئی ہے اور میں نے وتر کی نماز نہیں پڑھی (اب میں کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز وتر پڑھ لے۔“