کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: قرآن کی تلاوت کرنے والوں کی اقسام
حدیث نمبر: 814
- (يكونُ خَلْفٌ مِنْ بَعْدِ ستينَ سنةً (أضاعُوا الصلاةَ واتبعوا الشَّهَوَات فسوفَ يَلْقَوْنَ غَيّاً) . ثم يكونُ خلفٌ يَقْرَأُون القرآنَ لا يَعْدُو تَرَاقِيَهُم. ويَقْرَأُ القرآنَ ثلاثةٌ: مؤمنٌ، ومنافقٌ، وفاجرٌ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ساٹھ سال کے بعد نااہل لوگ پیدا ہوں گے، (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ”انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے ، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا۔“ ( سورہ مریم : ۵۹ ) پھر ایسے نااہل لوگ آئیں گے جو قرآن مجید کی تلاوت تو کریں گے ، لیکن وہ تلاوت ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی (یعنی ان پر بے اثر ہو گی)۔ تین قسم کے لوگ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں: مومن، منافق اور فاسق۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 814