حدیث نمبر: 687
- " إذا قام الإمام في الركعتين، فإن ذكر قبل أن يستوي قائما فليجلس، فإن استوى قائما فلا يجلس، ويسجد سجدتي السهو ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام (بھول جائے اور تشہد کے لیے بیٹھنے کی بجائے) دو رکعتوں کے بعد کھڑا ہونا شروع ہو جائے، اگر اسے سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آ گیا تو بیٹھ جائے اور اگر سیدحا کھڑا ہو جائے تو (تیسری رکعت جاری رکھے اور تشہد کے لیے) نہ بیٹھے اور (درمیانہ تشہد رہ جانے کی وجہ سے سلام سے پہلے) دو سجدے کر لے۔“
حدیث نمبر: 688
- " صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة من الصلوات (وفي رواية: صلاة الظهر) فقام من اثنتين [ولم يجلس] فسبح به [فلما اعتدل مضى ولم يرجع] [فقام الناس معه] ، فمضى حتى [إذا] فرغ من صلاته ولم يبق إلا السلام [ وانتظر الناس تسليمه] سجد سجدتين [يكبر في كل سجدة، وهو جالس] قبل أن يسلم [ثم سلم] [وسجد الناس معه، مكان ما نسي من الجلوس] ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز اور (ایک روایت کے مطابق ظہر کی نماز) پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، ( آگاہ کرنے کے لیے) سبحان اللہ تو کہا گیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدے کھڑے ہو گئے تو نماز جاری رکھی اور واپس نہ لوٹے، لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو جاری رکھا، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے لگے ، صرف سلام باقی تھا اور لوگ بھی سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل از سلام بھولنے کی وجہ سے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے اور ہر سجدے کے لیے « اللہ اكبر» کہا، پھر سلام پھیر دیا، لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدے کئے۔