حدیث نمبر: 665
- " إذا صليت فلا تبصق بين يديك ولا عن يمينك ولكن ابصق تلقاء شمالك إن كان فارغا وإلا فتحت قدميك وادلكه ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھے تو نہ اپنے سامنے تھوک اور نہ ہی دائیں طرف، بلکہ اگر بائیں جانب خالی ہے تو ادھر تھوک لے، وگرنہ اپنے قدموں تلے تھوک کر اس کو مل دے۔“
حدیث نمبر: 666
- (إذا قامَ أحدُكم إلى الصّلاةِ؛ فلا يبصق أمامَه؛ فإنما يناجِي الله ما دامَ في الصّلاةِ، ولا عن يمينِه؛ فإنَّ عن يمينِه ملكاً. وليبصق عن يَسارِه أو تحتَ قدمِه فيدفِنَها) .
حافظ محفوظ احمد
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سےکوئی نماز کےلیے کھڑا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکےکیونکہ جب وہ نماز میں ہوتا ہے اپنے ربّ سے سرگوشیاں کر رہا ہوتا ہے اور نہ ہی اپنے دائیں تھوکے کیونکہ اس کے دائیں فرشتہ ہوتا ہے۔ (البتہ ) اپنی بائیں جانب تھوک لے یا پاؤں تلے تھوک کر اسے دفن کر دے ۔“
حدیث نمبر: 667
- " إذا قام أحدكم ـ أو قال الرجل ـ في صلاته يقبل الله عليه بوجهه، فلا يبزقن أحدكم في قبلته ولا يبزقن عن يمينه، فإن كاتب الحسنات عن يمينه ولكن ليبزقن عن يساره ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالی اپنے چہرے کے ساتھ اس پر متوجہ ہوتے ہیں ۔ اس لیے نمازی اپنے سامنے نہ تھوکے اور دائیں جانب بھی نہ تھوکے کیونکہ نیکیاں لکھنے والا فرشتہ دائیں طرف ہوتا ہے، (البتہ) اسے بائیں جانب تھوک لینا چاہئے۔“