کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نماز عصر کے بعد دو رکعت سنتیں
حدیث نمبر: 645
- (كان لا يدعُ ركعتينِ قبل الفجرِ، وركعتينِ بعدالعصرِ) .
حافظ محفوظ احمد
ابراہیم بن محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہیں کہا گیا (کہ یہ نماز کیوں پڑھتے ہو)؟ انھوں نے کہا: اگر میں یہ دو رکعتیں صرف اس لیے پڑھتا کہ میں نے مسروق کو پڑھتے دیکھا تو یہ بھی قابل اعتماد بات تھی۔ لیکن میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو اور عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا ترک نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 645
حدیث نمبر: 646
- " نهى عن الصلاة بعد العصر إلا والشمس مرتفعة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےعصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ، الا یہ کہ سورج بلند ہو۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 646
حدیث نمبر: 647
- " أحسن ابن الخطاب ".
حافظ محفوظ احمد
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی ، (سلام کے بعد) ایک آدمی نے فوراً نماز پڑھنا شروع کر دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” ابن خطاب نے اچھا کیا۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 647
حدیث نمبر: 648
- (أحسنَ (وفي رواية: صدق) ابنُ الخطابِ)
حافظ محفوظ احمد
عبداللہ بن رباح، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی، ایک آدمی مزید نماز پڑھنےکے لیے فوراً کھڑا ہو گیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا اور اس کی چادر یا کپڑے کو پکڑ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان کی نمازوں میں وقفہ نہیں ہوتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ابن خطاب نے اچھا کیا ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے:’’(ابن خطاب نے) سچ کہا ۔‘‘
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 648