حدیث نمبر: 629
- " إذا حضر أحدكم الأمر يخشى فوته فليصل هذه الصلاة. (يعني الجمع بين الصلاتين ) ".
حافظ محفوظ احمد
کثیر بن قاروند کہتے ہیں کہ ہم نے سالم بن عبداللہ سے ان کے باپ عبداللہ رضی اللہ عنہ کی سفری نماز کے بارے میں سوال کیا ۔ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کسی کو ایسا معاملہ درپیش ہو جس کے فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو وہ اس طریقے سے نماز پڑھ لیا کرے (یعنی دو نمازوں کو جمع کر لیا کرے ) ۔ “
حدیث نمبر: 630
- " صلى بنا بالمدينة ثمانيا وسبعا (¬1) : الظهر والعصر، والمغرب والعشاء ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ہمیں اکٹھی آٹھ اور سات رکعتیں پڑھائیں ، (یعنی ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھایا ) ۔
حدیث نمبر: 631
- " صنعت هذا لكي لا تحرج أمتي. يعني الجمع بين الصلاتين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وجہ پوچھی گئی تو فرمایا : ” میں نے یہ نمازیں اس انداز میں اس لیے پڑھی ہیں تاکہ میری امت تنگی میں نہ پڑے ۔ “