کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعد از نماز عصر دو سنتوں سے کیوں منع کیا؟
حدیث نمبر: 602
ـ (كان يصلِّي الهَجِيرَ (¬1) ، ثمّ يصلِّي بعدَها ركعتَينِ، ثم يصلِّي العصْرَ، ثم يصلِّي بعدَها ركعتَينِ) .
حافظ محفوظ احمد
مقدام بن شریح اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا ؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ، پھر نماز عصر اور اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے ۔ میں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تو ان (عصر کے بعد والی) دو رکعتوں کی وجہ سے سزا دیتے اور ان سے منع کرتے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ خود بھی یہ نماز پڑھتے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز پڑھی ہے ۔ دراصل بات یہ ہے کہ تیری قوم کے یمنی لوگ بیوقوف قسم کے ہیں ۔ یہ لوگ ظہر اور عصر کے درمیانی وقفے میں نماز پڑھتے ہیں اور پھر عصر کی نماز کی ادائیگی کے بعد عصر اور مغرب کے مابین بھی نماز پڑھتے ہیں ، اس وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی اور اچھا کیا ۔
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 602