کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: خلوت میں ادا کی گئی نماز کا اجر و اور اس کی وجہ
حدیث نمبر: 591
ـ (صلاةُ الرّجلِ في جماعةٍ تزيدُ على صَلاتِهِ وحدَه خمْساً وعشرينَ دَرجَةً، وإنْ صلاها بأرضِ فلاةٍ، فأتمّ وُضوءها وركوعَها وسجودَها؛ بلغتْ صلاتُه خمسينَ درجةٍ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجے زیادہ ہے ، اور اگر وہ ویران جنگل میں ہو اور وضو اور رکوع و سجود مکمل انداز میں ادا کرتا ہے تو اس کی نماز پچ درجوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 591
حدیث نمبر: 592
- " يعجب ربكم من راعي غنم في رأس شظية بجبل يؤذن بالصلاة ويصلي فيقول الله عز وجل: انظروا إلى عبدي هذا يؤذن ويقيم الصلاة يخاف مني، فقد غفرت لعبدي وأدخلته الجنة ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”تمہارا رب اس چرواہے پر تعجب کرتا ہے ، جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر بکریوں چرا رہا ہو ، وہ نماز کے لیے اذان دیتا ہو اور نماز پڑھتا ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو ، اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے ، وہ مجھ سے ڈرتا ، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔ “
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 592