حدیث نمبر: 585
- (اجعلُوا من صلاتِكم في بُيوتِكم، ولا تجعلُوها عليكم قُبوراً، كما اتَّخذت اليهود والنصارى في بيوتهم قبوراً، وإنَّ البيت ليُتلى فيه القرآن؛ فيتراءى لأهلِ السماء كما تتراءى النجومُ لأهل الأرضِ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو ، ان کو قبرستان نہ بنا دو ، جیسا کہ یہودیوں نے اپنے گھروں کو قبرستان بنا دیا تھا ، بیشک جس گھر میں قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی ہے وہ اہل آسمان کو ایسے نظر آتا ہے جیسے اہل زمین کو ستارے نظر آتے ہیں۔ “
حدیث نمبر: 586
- " إذا قضى أحدكم الصلاة في مسجده فليجعل لبيته نصيبا من صلاته، فإن الله جاعل في بيته من صلاته خيرا ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب کوئی آدمی مسجد میں اپنی نماز مکمل کر لے تو اسے چاہئیے کہ کچھ نماز گھر میں بھی ادا کیا کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر و برکرت نازل فرمائے گا ۔ “
حدیث نمبر: 587
- (تطوُّعُ الرجل في بيتِهِ يزيدُ على تطوُّعِه عندَ الناس، كفضْلِ صلاة الرجل في جماعةٍ على صلاتهِ وحدَه) .
حافظ محفوظ احمد
ایک صحابی رسول سے روایت ہے وہ کہتے ہیں : ” آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی (فرض) نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجر و ثواب ہے ۔ “
حدیث نمبر: 588
- " صلوا في بيوتكم ولا تتركوا النوافل فيها ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان میں نوافل کی ادائیگی ترک نہ کرو ۔ “
حدیث نمبر: 589
- " لا تتخذوا بيوتكم قبورا، صلوا فيها ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اپنے گھروں کو قبریں نہ بنا دو ، ان میں نماز پڑھا کرو ۔ “