حدیث نمبر: 568
- (لا، ولكنك تفلت بين يديك وأنت تؤمّ الناس فآذيت الله وملائكته) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز ظہر پڑھائے ، اس نے نماز پڑھانے کی حالت میں جہت قبلہ میں تھوکا ۔ جب نماز عصر کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے آدمی کو (امامت کے لیے ) بھیجا ، پہلا شخص ڈر گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نہیں ، (کوئی حکم نازل نہیں ہوا ، بات یہ ہے کہ) جب تو لوگوں کو نماز پڑھا رہا تھا تو تو نے اپنے سامنے تھوکا اور اس طرح اللہ اور فرشتوں کو تکلیف دی (یہ وجہ بنی ، تجھے پیچھے کر دینے کی) ۔ “