کتب حدیثسلسله احاديث صحيحهابوابباب: نماز گناہوں کا اثر زائل کر دیتی ہے
حدیث نمبر: 544
- " أرأيت لو كان بفناء أحدكم نهر يجري يغتسل منه كل يوم خمس مرات، ما كان يبقى من درنه؟ قالوا: لا شيء، قال: إن الصلوات تذهب الذنوب كما يذهب الماء الدرن ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”تمہارا کیا خیال ہے اگر کسی کے صحن کے پاس سے ایک نہر گزرتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ غسل کرتا ہو ، تو کیا کچھ میل کچیل باقی رہے گی ؟“ صحابہ نے کہا: ذرہ برابر (میل باقی) نہیں رہے گی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”نمازیں بھی گناہوں کو ایسے مٹا دیتی ہیں ، جیسے پانی میل کو ختم کر دیتا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 544
حدیث نمبر: 545
- (إنّ المسلمَ يصلِّي وخَطاياهُ مرفوعةٌ على رأسِه، كلّما سجَدَ تحاتَّت عنه، فيفرُغُ من صلاتِه؛ وقد تحاتَّت خطاياهُ) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب مسلمان نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ، جب بھی وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ گر جاتے ہیں ، جب وہ اپنی نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کے گناہ جھڑ چکے ہوتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 545
حدیث نمبر: 546
- " إن العبد إذا قام للصلاة أتي بذنوبه كلها فوضعت على عاتقيه، فكلما ركع أو سجد تساقطت عنه ".
حافظ محفوظ احمد
ابومنیب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک نوجوان کو مبالغے کی حد تک لمبی نماز پڑھتے دیکھا اور پوچھا: اس نوجوان کو کون جانتا ہے ؟ ایک آدمی نے کہا: میں جانتا ہوں ۔ آپ نے کہا: اگر میں اسے جانتا ہوتا تو اسے (طوالت کے بجائے ) زیادہ رکوع و سجود کرنے کا حکم دیتا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ”جب بندہ نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے تمام گناہ اس کے کندھوں پر رکھ دیے جاتے ہیں ، جب وہ رکوع یا سجدہ کرتا ہے تو اس کے گناہ گر جاتے ہیں ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 546
حدیث نمبر: 547
- (الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان: مكفرات ما بينهن؛ إذا اجتُنبتِ الكبائر) .
حافظ محفوظ احمد
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچوں نمازیں اور جمعہ ، دوسرے جمعہ تک اور ماہ رمضان ، اگلے رمضان تک ان تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں کہ جن کا ارتکاب ان کے درمیانی وقفوں میں کیا جاتا ہے ، جب تک کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 547
حدیث نمبر: 548
- " الصلوات الخمس كفارات لما بينهن ما اجتنبت الكبائر والجمعة إلى الجمعة وزيادة ثلاثة أيام ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”پانچوں نمازیں اور جمعہ ، اگلے جمعہ تک ان تمام گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ، جو ان کے درمیانے وقفوں میں سرزد ہو جاتے ہیں ، جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے اور (جمعہ) مزید تین دنوں میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ بھی بن جاتا ہے ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 548
حدیث نمبر: 549
- " يبعث مناد عند حضرة كل صلاة فيقول: يا بني آدم قوموا فأطفئوا عنكم ما أوقدتم على أنفسكم. فيقومون فيتطهرون فتسقط خطاياهم من أعينهم، ويصلون فيغفر لهم ما بينهما، ثم توقدون فيما بين ذلك، فإذا كان عند صلاة الأولى نادى: يا بني آدم قوموا فأطفئوا ما أوقدتم على أنفسكم، فيقومون فيتطهرون ويصلون فيغفر لهم ما بينهما، فإذا حضرت العصر فمثل ذلك، فإذا حضرت المغرب فمثل ذلك، فإذا حضرت العتمة فمثل ذلك، فينامون وقد غفر لهم، ثم قال: فمدلج في خير ومدلج في شر ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب ہر نماز کا وقت شروع ہوتا ہے تو ایک منادی کرنے والے کو بھیجا جاتا ہے ، وہ یوں اعلان کرتا ہے کہ : آدم کے بیٹو ! اٹھو اور اس آگ کو بھجاؤ جو تم نے اپنے نفسوں کے لیے جلائی ہے ۔ (جب وہ اس اعلان کا لحاظ کر کے ) کھڑے ہوتے ہیں اور وضو کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے گناہ گر جاتے ہیں اور جب وہ نماز پڑھتے ہیں تو اس اور سابقہ نماز کے درمیانی وقفے میں ہونے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ پھر تم لوگ (گناہ کر کے ) آگ جلاتے ہو ، جونہی ظہر کی نماز کا وقت کا وقت ہوتا ہے تو اعلان کرنے والا پھر اعلان کرتا ہے : بنو آدم ! اٹھو اور اس آگ کو بھجاؤ جو تم نے اپنے نفسوں کے لیے جلائی ہے ۔ وہ پھر کھڑے ہوتے ہیں ، وضو کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں ، یوں اس نماز اور سابقہ نماز کے مابین ہونے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ، جب مغرب کا وقت ہوتا ہے تو یہی معاملہ پیش آتا ہے اور جب عشاء کا وقت ہوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے ۔ پس جب لوگ سوتے ہیں تو وہ بخشے ہوئے ہوتے ہیں ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بعض لوگ خیر سے متصف ہو کر دن گزارنے والے ہیں اور بعض شر میں لتھڑ کر ۔“
حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 549