حدیث نمبر: 487
- (من توضَّأَ فأحسنَ وضوءَه، ثمّ قامَ فصلّى ركعتين- أو أربعاً؛ شكَّ سهلٌ-، يُحسنُ فيها الذِّكر والخُشوعَ، ثم استغفرَ الله؛ غُفِرَ له)
حافظ محفوظ احمد
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں : میں سیدنا ابودردا رضی اللہ عنہ کے پاس اس وقت آیا جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے ۔ انہوں نے مجھے کہا: اے میرے بھتیجے ! کون سا ارادہ یا کون سی ضرورت تجھے اس شہر میں لے آئی ہے ؟ میں نے کہا: کوئی مقصد نہیں ، سوائے اس کے کہ آپ کے اور میرے والد عبداللہ بن سلام کے مابین ایک تعلق تھا ، (اس کی بنا پر آیا ہوں) ۔ ابودردا رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس وقت جھوٹ بولوں تو بہت برا ہے ، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو آدمی وضو کرے اور اچھا وضو کرے ، پھر دو یا چار رکعتیں پڑھے اور ان میں اچھے انداز میں ذکر و اذکار اور خشوع و خضوع کرے ، پھر بخشش طلب کرے تو اس کو بخش دیا جائے گا ۔ “ رکعات کی تعداد کے بارے میں سہیل راوی کو شک ہوا ۔