حدیث نمبر: 397
- " كان يبعث إلى المطاهر، فيؤتى بالماء، فيشربه يرجو بركة أيدي المسلمين ".
حافظ محفوظ احمد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ ڈھانکے ہوئے نئے مٹکے سے وضو کرنا پسند کریں گے ، یا لوٹے جیسے برتنوں سے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ لوٹے جیسے عام برتنوں میں ( وضو کرنا پسند کروں گا ) ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا دین آسان ہے ۔ ملت اسلام ، نرمی و سہولت آمیز شریعت پر مشتمل ہے ۔ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطاہر کے لیے بھیجتے تھے ، پس پانی لایا جاتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیتے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید کرتے تھے ۔