- " ما بال رجال بلغهم عني أمر ترخصت فيه، فكرهوه وتنزهوا عنه؟ ! فوالله لأنا أعلمهم بالله وأشدهم له خشية ".سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کام کیا اور پھر اس میں رخصت دے دی ۔ جب یہ بات صحابہ کرام تک پہنچی تو انہوں نے اس رخصت کو ناپسند کیا اور اس سے اجتناب کرنے لگے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے رویے )کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور خطیب کھڑے ہوئے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ، میری طرف سے ایک رخصت والا معاملہ ان تک پہنچا ، لیکن انہوں نے ناپسند کیا اور اس سے گریز کرنے لگے ؟ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے والا میں ہوں اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا بھی میں ہوں ۔“
_____________________
رواه مسلم (7 / 90) وأحمد (6 / 45، 181) من حديث عائشة رضي الله عنها
قالت: " صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرا فترخص فيه، فبلغ ذلك ناسا من
أصحابه، فكأنهم
__________جزء: 1 /صفحہ: 646__________
كرهوه وتنزهوا عنه! فبلغه ذلك فقام خطيبا فقال: " فذكره.
قلت: والأمر الذي ترخص فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم هو التقبيل في
الصيام خلافا لما قد يتبادر لبعض الأذهان، والدليل الحديث الآتي:
" أنا أتقاكم لله، وأعلمكم بحدود الله ".