- " ومن أمرك أن تعذب نفسك؟! صم شهر الصبر، ومن كل شهر يوما. قلت: زدني. قال: صم شهر الصبر، ومن كل شهر يومين. قلت: زدني أجد قوة. قال: صم شهر الصبر ومن كل شهر ثلاثة أيام ".سیدنا کہم ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اپنے اسلام کے بارے میں آگاہ کیا ( اور چلا گیا) ۔ پھر میں نے وہاں ایک سال تک قیام کیا ۔ لیکن میں دبلا پتلا ہو گیا اور میرا جسم کمزور پڑ گیا ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ نے (میرے وجود کے ) نیچے والے حصے پر نگاہ ڈالی اور پھر اوپر والے حصہ پر ۔ (یعنی آپ نے مجھے پہچاننے کے لیے بغوردیکھا) ۔ میں نے کہا: کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں کہمس ہلالی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تو اتنا کمزور نظر کیوں آ رہا ہے ؟“ اس نے کہا: میں نے آپ (سے ملاقات کرنے ) کے بعد ایک دن بھی افطار نہیں کیا اور نہ کسی رات کو سویا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کس نے تجھے حکم دیا کہ تو اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کر دے ؟ صبر والے مہینے کے روزے اور (باقی مہینوں میں سے ) ہر ماہ میں ایک روزہ رکھا لیا کر ۔“ میں کہا: میرے لیے زیادہ (روزوں کی گنجائش) نکالیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”صبر والے ماہ کے روزے رکھ لے اور ہر ماہ میں دو دنوں کے ۔“ اس نے کہا: میرے لیے مزید (گنجائش) نکالیں ، کیونکہ مجھ میں طاقت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”صبر والے مہینے کے روزے رکھ لے اور ہر ماہ میں تین دنوں کے ۔“
_____________________
أخرجه البخاري في " التاريخ الكبير " (4 / 1 / 238 - 239) والطيالسي في "
مسنده " (31) والطبراني في " المعجم الكبير " (19 / 194 / رقم 435) عن
حماد ابن يزيد بن مسلم: حدثنا معاوية بن قرة عن كهمس الهلالي قال:
__________جزء: 6 /صفحہ: 244__________
أسلمت
، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته بإسلامي، فمكثت حولا وقد ضمرت
ونحل جسمي [ثم أتيته]، فخفض في البصر ثم رفعه، قلت: أما تعرفني؟ قال:
ومن أنت؟ قلت: أنا كهمس الهلالي. قال: فما بلغ بك ما أرى؟ قلت: ما أفطرت
بعدك نهارا، ولا نمت ليلا، فقال: ... فذكره. وأورده الحافظ في " المطالب
العالية " (1 / 303 / 1036) من رواية الطيالسي وسكت عليه، وقال الهيثمي في
" المجمع " (3 / 197): " رواه الطبراني في " الكبير "، وفيه حماد بن يزيد
المنقري، (قلت: وفي " الجرح " المقرىء) ولم أجد من ذكره ". قلت: وقد
فاته أن البخاري ذكره في " التاريخ " (2 / 1 / 20) وكناه بأبي يزيد البصري،
وقال: " سمع معاوية بن قرة، سمع منه موسى، وسمع أباه ومحمد بن سيرين ".
وكذا ذكره أيضا ابن أبي حاتم (1 / 2 / 151) وزاد في شيوخه: بكر بن عبد
الله المزني ومخلد بن عقبة بن شرحبيل الجعفي. وفي الرواة عنه: يونس بن محمد
، ومسلم بن إبراهيم، ومحمد بن عون الزيادي، وطالوت بن عباد الجحدري.
وينبغي أن يزاد فيهم: أبو داود الطيالسي، فإنه قد روى عنه هذا الحديث، وذكره
ابن حبان أيضا في " الثقات " (2 / 62 - مخطوطة الظاهرية) وعلى هامشه بخط بعض
المحدثين: " وذكره البزار، وقال: ليس به بأس ". وللحديث شاهد من حديث
مجيبة الباهلية عن أبيها أو عمها بهذه القصة، وفي آخره زيادة أوردته من أجلها
في " ضعيف أبي داود " برقم (419) .
__________جزء: 6 /صفحہ: 245__________
وعند الطيالسي في هذا الحديث قصة، وفي
آخرها حديث آخر أخرجه الضياء في " المختارة " برقم (258 و 259) من طريق
الطيالسي وغيره.