حدیث نمبر: 844
- (أُريتُ ليلةَ القدرِ، ثم أُنسيتُها، وأَراني صُبحَها أَسجدُ في ماءٍ وطينٍ) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے شب قدر دکھائی گئی ، لیکن پھر بھلا دی گئی ۔ میرا خیال ہے کہ اس رات کی صبح کو میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں گا ۔“ انہوں نے کہا: (رمضان کی) تئیس تاریخ کو بارش ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو (دیکھا گیا کہ) آپ کے چہرے اور ناک کو پانی اور مٹی کا نشان تھا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الصيام والقيام / حدیث: 844
- (أُريتُ ليلةَ القدرِ، ثم أُنسيتُها، وأَراني صُبحَها أَسجدُ في ماءٍ وطينٍ) .
_____________________

أخرجه مسلم (3/173)، والبيهقي (4/309) من طريق بسر بن سعيد عن عبد الله بن أنيس أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قال: ... فذكره؛ قال:
فمطرنا ليلة ثلاث وعشرين، فصلى بنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -، فانصرف؛ وان أثر الماء والطين على جبهته وأنفه. *