- " شعبان بين رجب ورمضان يغفل الناس عنه ترفع فيه أعمال العباد، فأحب أن لا يرفع عملي إلا وأنا صائم ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ، امام نسائی نے ابوہریرہ کا نام ذکر نہیں کیا ، سیدنا اسامہ کہتے ہیں : میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایک مہینے میں بہت روزے رکھتے ہیں ، جبکہ دوسرے ماہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے ، (کیا وجہ ہے )؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کون سا مہینہ؟“ میں نے کہا: شعبان ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’شعبان ، جو رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے ، سے کئی لوگ غافل ہیں ۔ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال (آسمانوں کی طرف) اٹھائے جاتے ہیں ، میں چاہتا ہے کہ میرا عمل اس حال میں اٹھایا جائے کہ میں روزے دار ہوں ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ سوموار اور جمعرات کا روزہ ترک نہیں کرتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ان میں بھی بندوں کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں ۔“
_____________________
أخرجه النسائي (1 / 322) وأبو بكر محمد بن الحسن المقرىء الحيارى (!)
الطبري العباد، في " الأمالي " (3 / 2) عن ثابت بن قيس الغفاري حدثني أبو
سعيد المقبري عن أبي هريرة عن أسامة بن زيد (ولم يقل النسائي: عن أبي
هريرة) وقال: قلت: يا رسول الله أراك تصوم في شهر ما لم أرك تصوم في شهر
مثل ما تصوم فيه؟ قال: أي شهر؟ قلت: شعبان، قال: فذكره. قال: أراك تصوم
الاثنين والخميس فلا تدعهما؟ قال: " إن أعمال العباد ... " الحديث.
قلت: وهذا إسناد حسن، ثابت بن قيس صدوق يهم كما في " التقريب " وسائر رجاله
ثقات.
__________جزء: 4 /صفحہ: 522__________