حدیث نمبر: 8
- " لو تعلمون قدر رحمة الله عز وجل لاتكلتم وما عملتم من عمل ولو علمتم قدر غضبه ما نفعكم شيء ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ( کی وسعت ) کا اندازہ ہو جائے تو تم توکل ( کر کے بیٹھ جاؤ اور ) کوئی عمل نہ کرو اور اگر تمہیں اس کے غضب کا اندازہ ہو جائے تو ( تم یہ سمجھ لو کہ ) تمہیں کوئی عمل نفع نہیں دے گا۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 8
تخریج حدیث «رواه ابن أبى الدنيا فى ”حسن الظن“ : 1/193/2 ، والبزار»
- " لو تعلمون قدر رحمة الله عز وجل لاتكلتم وما عملتم من عمل ولو علمتم قدر غضبه ما نفعكم شيء ".
_____________________

رواه ابن أبي الدنيا في " حسن الظن " (2 / 193 / 1) عن موسى الأسواري عن عطية
عن ابن عمر مرفوعا.
__________جزء: 5 /صفحہ: 200__________

قلت: وعطية ضعيف. لكن قال الهيثمي (10 / 213): "
رواه البزار، وإسناده حسن "! كذا قال، وبالرجوع إلى " زوائد البزار "
للهيثمي (4 / 85 / 3256) تبين أنه عند البزار من طريق الحجاج عن عطية نفسه!
مع كون الحجاج - وهو ابن أرطأة - مدلسا. ومع ذلك سكت عنه الأعظمي في تعليقه
على " الزوائد "! ثم رواه ابن أبي الدنيا من طريق قتادة مرسلا نحوه.
قلت: فالحديث حسن، والله أعلم.

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا اندازہ ہو جائے تو تم توکل (کر کے بیٹھ جاؤ اور) کوئی عمل نہ کرو اور اگر تمہیں اس کے غضب کا اندازہ ہو جائے تو (تم یہ سمجھ لو کہ) تمہیں کوئی عمل نفع نہیں دے گا۔‏‏‏‏ [صحيحه: 8]
فوائد:

جہاں مومن کو اللہ تعالی کی رحمت کی امید ہوتی ہے، وہاں اسے اللہ تعالی کے غضب سے ڈرنا بھی چاہیے، اللہ تعالی نے اس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: «تتجا فى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَطَاجِحِ يَدْعُونَ ربِّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ» [سوره سجده: 16]

یعنی: ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں (یعنی رات کو نوافل کا اہتمام کرتے ہیں) اور اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دے رکھا ہے، وہ خرچ کرتے ہیں۔

یعنی مومن لوگ اللہ کی رحمت اور فضل و کرم کی امید بھی رکھتے ہیں اور اس کے عتاب و عقاب اور مواخذہ و عذاب سے ڈرتے بھی ہیں۔ محض امید ہی نہیں کہ عمل سے بے پرواہ ہو جائیں، جیسے بے عمل اور بد عمل لوگوں کا رویہ ہے اور نہ عذاب کا اتنا خوف طاری کر لیتے ہیں کہ اس کی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔ اس حدیث مبارکہ میں ان عمل خوروں کا ردّ ہے، جو اللہ تعالی کی رحمت کی وسعت کا سہارا لے کر اعمالِ صالحہ کے گراف میں کمی کرتے رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 8 سے ماخوذ ہے۔