حدیث نمبر: 7
- " إذا حلف أحدكم فلا يقل: ما شاء الله وشئت، ولكن ليقل ما شاء الله ثم شئت ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو یہ نہ کہے کہ «ما شاء الله وشئت» ( جو اللہ اور آپ چاہیں ) ، بلکہ اس طرح کہا کرے: «ما شاء الله ثم وشئت» ”جو اللہ تعالیٰ چاہے اور پھر تم چاہو۔‏‏‏‏“‏‏‏‏“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 7
تخریج حدیث « أخرجه ابن ماجه: 650/1 ، ورواه الامام احمد فى ”مسنده“»
- " إذا حلف أحدكم فلا يقل: ما شاء الله وشئت، ولكن ليقل ما شاء الله ثم شئت ".
_____________________

أخرجه ابن ماجه (1 / 650) من طريق عيسى بن يونس حدثنا الأجلح الكندي عن يزيد
ابن الأصم عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات رجال الصحيح غير الأجلح وهو ابن عبد الله
الكندي وهو صدوق كما قال الذهبي والعسقلاني. والحديث قال في " الزوائد " (
131 / 2): " هذا إسناد فيه الأجلح بن عبد الله مختلف فيه، ضعفه أحمد وأبو
حاتم والنسائي وأبو داود وابن سعد، ووثقه ابن معين والعجلي ويعقوب بن
سفيان وباقي رجال الإسناد ثقات. رواه النسائي في " عمل اليوم والليلة " عن
علي بن خشرم عن عيسى بن يونس به. ورواه مسدد في " مسنده " عن عيسى بن يونس
بإسناده ومتنه، ورواه الإمام أحمد في " مسنده " من حديث ابن عباس أيضا،
ورواه أبو بكر بن أبي شيبة في " مسنده " عن علي بن مسهر عن الأجلح إلا أنه قال
: " جعلتني لله عدلا؟! بل ما شاء الله (وحده) ". وله شاهد من حديث قتيلة
. رواه النسائي ".
قلت: هو في " مسند أحمد " (1839، 1964 و 2561) من طرق عن الأجلح به مثل لفظ
ابن أبي شيبة، وقد سبق تخريجه برقم (139) وسبق هناك تخريج حديث قتيلة
(136) .
__________جزء: 3 /صفحہ: 85__________

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محفوظ احمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو یہ نہ کہے کہ «ما شاء الله وشئت» (جو اللہ اور آپ چاہیں)، بلکہ اس طرح کہا کرے: «ما شاء الله ثم وشئت» جو اللہ تعالیٰ چاہے اور پھر تم چاہو۔‏‏‏‏‏‏‏‏ [صحيحه: 7]
فوائد:

کائنات وسیع و عریض انتظام و انصرام پر مشتمل ہے، اس کی وسعت انسانی عقلوں سے ماورا ہے۔ اس کائنات کا پورے نظم و نسق میں اللہ تعالی کی منشا و مرضی کار فرما ہے۔ خوشحالی کا معاملہ ہو یا بد حالی کا، عنایت رزق کا معاملہ ہو یا تنگی رزق کا، فتح کا معاملہ ہو یا شکست کا، کامیابی کا معاملہ ہو یا نا کامی کا، حیات کا معاملہ ہو یا موت کا، بچپنیے میں فوت ہو جانے کا معاملہ ہو یا ادھیڑ عمر تک زندہ رہنے کا، خوبصورتی کا معاملہ ہو یا بدصورتی کا، طلوع آفتاب کا معاملہ ہو یا کسوفِ شمس کا، جنت کا معاملہ ہو یا جہنم کا، غرضیکہ کائنات کے تمام معاملات کو سر انجام دینے میں اس ایک اللہ کا حکم چلتا ہے، اسی کی سنی جاتی ہے۔ اگر سید الاولین و الآخرین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا اللہ تعالی کی چاہت کے تابع ہے تو اور کون ہے کسی مائی کا لال، جو اُس کی چاہت کے سامنے اپنی مرضی کا لوہا منوا سکے۔

ہمیں اپنے جملوں کی تصحیح کرنی چاہیے اور کسی کے احسانات کا تذکرہ کرتے وقت محسنِ عظیم اللہ تعالی کی عظیم ذات سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 7 سے ماخوذ ہے۔