حدیث نمبر: 600
- " اخرجوا فإذا أتيتم أرضكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها بهذا الماء واتخذوها مسجدا. قالوا: إن البلد بعيد والحر شديد والماء ينشف؟ فقال: مدوه من الماء، فإنه لا يزيده إلا طيبا ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں : ہم وفد کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہماری زمین میں ہمارا ایک گرجا ہے ، (ہم وہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس لیے ) ہم نے آپ سے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی طلب کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، وضو کیا ، کلی کی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیا اور ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا : ”چلے جاؤ ، جب اپنے علاقے میں پہنچو تو گرجا گھر گرا دینا ، وہاں یہ پانی چھڑکنا اور وہاں مسجد تعمیر کر لینا ۔ “ انہوں نے کہا: ہمارا علاقہ بہت دور ہے اور شدید گرمی پڑ رہی ، یہ پانی تو خشک ہو جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”(راستے میں) اس میں مزید پانی ملاتے جانا ، وہ اس کی پاکیزگی میں اور اضافہ کرے گا ۔ “ ہم نکل پڑے ، حتی کہ اپنے علاقے میں پہنچ گئے ، ہم نے گرجا گھر گرا دیا ، وہاں پانی چھڑکا اور اسے مسجد کا روپ دے دیا ، پھر ہم نے وہاں اذان دی ۔ قبیلہ بنوطی کے ایک پادری نے اذان سنی اور کہا: یہ تو دعوت حق ہے ۔ پھر وہ ایک ٹیلے کی طرف نکل گیا اور اس واقعہ کے بعد ہم اسے نہ دیکھ پائے ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 600
- " اخرجوا فإذا أتيتم أرضكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها بهذا الماء واتخذوها مسجدا. قالوا: إن البلد بعيد والحر شديد والماء ينشف؟ فقال: مدوه من الماء، فإنه لا يزيده إلا طيبا ".
_____________________

أخرجه النسائي (8 / 1 المساجد - 11 باب) وابن حبان (98 / 304 - موارد) من
طريق عبد الله بن بدر عن قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: " خرجنا وفدا
إلى النبي صلى الله عليه وسلم فبايعناه وصلينا معه وأخبرناه أن بأرضنا بيعة
لنا، فاستوهبناه من فضل طهوره، فدعا بماء فتوضأ وتمضمض ثم صبه في إداوة
وأمرنا، فقال: فذكره. فخرجنا حتى قدمنا بلدنا فكسرنا بيعتنا، ثم نضحنا
مكانها واتخذناها مسجدا، فنادينا فيه بالأذان، قال: والراهب رجل من طيء
فلما سمع الأذان قال: دعوة حق، ثم استقبل تلعة من تلاعنا فلم نره بعد ". قلت
: إسناده صحيح، ومن هذا الوجه أخرجه أحمد (4 / 23) والحربي في " غريب
الحديث " (5 / 141 / 2 و 156 / 2) من الوجه المذكور مختصرا.
__________جزء: 6 /صفحہ: 164__________