حدیث نمبر: 550
- " إذا جئت فصل مع الناس، وإن كنت قد صليت ".
حافظ محفوظ احمد

بسر بن محجن اپنے باپ سیدنا محجن رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں شریک تھے ، نماز کے لیے اذان ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی ۔ جب (نماز پڑھ کر) واپس آئے تو دیکھا کہ محجن وہیں بیٹھا ہوا ہے ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کس چیز نے تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے روک دیا ؟ کیا تو مسلمان نہیں ؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! کیوں نہیں ، (میں مسلمان ہوں ، دراصل بات یہ ہے کہ) میں نے اپنے گھر میں نماز ادا کر لی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تو آئے (اور لوگ نماز پڑھ رہے ہوں) تو ان کے ساتھ نماز ادا کر لیا کر ، اگرچہ تو نماز پڑھ چکا ہو ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 550
- " إذا جئت فصل مع الناس، وإن كنت قد صليت ".
_____________________

أخرجه مالك في " الموطأ " (1 / 132 / 8) وعنه النسائي (1 / 137) وابن
حبان (433) والحاكم (1 / 244) وأحمد (4 / 34) كلهم عن مالك عن زيد بن
أسلم عن رجل من بني الديل يقال له بسر بن محجن عن أبيه محجن: " أنه كان في
مجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأذن بالصلاة، فقام رسول الله صلى
الله عليه وسلم فصلى، ثم رجع، ومحجن في مجلسه لم يصل معه، فقال له رسول
الله صلى الله عليه وسلم
__________جزء: 3 /صفحہ: 324__________

ما منعك أن تصلي مع الناس؟ ألست برجل مسلم؟ فقال:
بلى يا رسول الله، ولكني قد صليت في أهلي، فقال له رسول الله صلى الله عليه
وسلم " فذكره. وقال الحاكم: " حديث صحيح ومالك بن أنس الحكم في حديث
المدنيين وقد أحتج به في الموطأ ". ثم أخرجه هو وأحمد (4 / 34 / 338) من
طرق أخرى عن زيد بن أسلم به.
قلت: وبسر بن محجن لم يرو عنه غير زيد بن أسلم ولم يوثقه غير ابن حبان ومع
ذلك قال فيه الحافظ: " صدوق ". ولعل وجهه ما تقدم عن الحاكم. والله أعلم.
والحديث صحيح على كل حال، فإن له شاهدا من حديث يزيد بن الأسود في " السنن "
وغيرها على ما خرجته في " صحيح أبي داود " (590) . والحديث عزاه السيوطي
لسعيد بن منصور فقط في " سننه " بلفظ: " إذا دخلت مسجدا فصل مع الناس، وإن
كنت قد صليت ".