حدیث نمبر: 483
- " إن الرجل إذا قام يصلي أقبل الله إليه بوجهه حتى ينقلب أو يحدث حدث سوء ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شبث بن ربعی کو (نماز میں) اپنے سامنے تھوکتے دیکھا تو اسے کہا: شبث ! اپنے سامنے نہ تھوکا کر ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا : ” جب آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس کی طرف (اس وقت تک) متوجہ رہتا ہے ، جب تک وہ سلام نہیں پھیرتا یا کوئی برا فعل نہیں کرتا ۔ “

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الاذان و الصلاة / حدیث: 483
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1023
- " إن الرجل إذا قام يصلي أقبل الله إليه بوجهه حتى ينقلب أو يحدث حدث سوء ".
_____________________

أخرجه ابن ماجة (1 / 319 - 320) من طريق أبي بكر بن عياش عن عاصم عن أبي وائل
عن حذيفة " أنه رأى شبث بن ربيعي يبزق بين يديه، فقال: يا شبث لا تبزق
بين يديك، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهى عن ذلك، وقال:
" فذكره. وقال البوصيري في " زوائده " (65 / 2): " هذا إسناد صحيح، رجاله
ثقات ".
قلت: بل هو حسن فقط للكلام المعروف في أبي بكر، وعاصم، وهو ابن أبي النجود
، وكلاهما حسن الحديث.
__________جزء: 4 /صفحہ: 127__________

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محفوظ احمد
´اللہ تعالیٰ کا نمازی کی طرف متوجہ ہونا`
«. . . - " إن الرجل إذا قام يصلي أقبل الله إليه بوجهه حتى ينقلب أو يحدث حدث سوء . . . .»
. . . سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے شبث بن ربعی کو (نماز میں) اپنے سامنے تھوکتے دیکھا تو اسے کہا: شبث! اپنے سامنے نہ تھوکا کر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا: جب آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس کی طرف (اس وقت تک) متوجہ رہتا ہے، جب تک وہ سلام نہیں پھیرتا یا کوئی برا فعل نہیں کرتا . . . [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 483]
فوائد و مسائل
اس میں نمازی کی قدر و منزلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنا رخ انور اس کی طرف پھیر دیتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر یکسوئی اختیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بےتوجہی اور برائی سے نفرت ہے۔ نیز اس حدیث سے نمازی کو ضرورت کے مطابق تھوکنے کی گنجائش ملتی ہے، اس پر تفصیلی بحث یہ ہے۔
عصر حاضر میں مساجد کی خوبصورت عمارتوں اور ان میں بچھی ہوئی خوبصورت چٹائیوں اور قالینوں کی وجہ سے درج بالا حدیث کو سمجھنے میں دقت پیش آئی ہے۔ یہ احادیث اس وقت بیان کی گئی تھیں، جب مساجد کا فرش نرم مٹی اور ریت پر مشتمل ہوتا تھا اور ان میں بچھانے کے لیے صفیں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ درحقیقت مسئلہ یوں ہے کہ بوقت ضرورت مسجد میں تھوکنا جائز ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت تھوک دیکھا، جو آپ پر گراں گزرا، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو صاف کیا اور فرمایا: «ان احدكم اذا قام فى صلاته فانما يناجي ربه، فلا يبزقن فى قبلته ولكن عن يساره او تحت قدمه» [بخارى] جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے وہ قبلہ والی سمت نہ تھوکا کرے، البتہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر (تیسرا طریقہ بیان کرتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا اور اس کو مل دیا اور فرمایا: یا پھر اس طرح کر لیا کرے۔
اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث ہیں، لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رخصت اس وقت ہے جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے مجبوراً تھوکنا پڑ جائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «البزاق فى المسجد خطيئة و كفارتها دفنها» [بخاری] مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ تھوک کو دفن کرنا ہے۔
رہا مسئلہ قبلہ والی سمت میں تھوکنے کا، تو وہ بھی منع ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چلتا ہے، نیز اس موضوع پر کئی دوسری احادیث موجود ہیں. بہرحال مساجد کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اس رخصت پرعمل کرنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سلسله احاديث صحيحه شرح از محمد محفوظ احمد، حدیث/صفحہ نمبر: 483 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1023 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نمازی کے تھوکنے کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے شبث بن ربعی کو اپنے آگے تھوکتے ہوئے دیکھا تو کہا: شبث! اپنے آگے نہ تھوکو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرماتے تھے، اور کہتے تھے: آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو جب تک وہ نماز پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، یہاں تک کہ نماز پڑھ کر لوٹ جائے، یا اسے برا حدث ہو جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1023]
اردو حاشہ:
فائدہ: بُرا کام کرنے سے مراد ایسا کام ہے جو نماز کےادب کے خلاف ہو مثلاً سامنے تھوکنا، گوز مارنا، کپڑوں یا کنکریوں سے کھیلنا، مزید فوائد کے لئے ملاحظہ کیجئے، حدیث: 763)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1023 سے ماخوذ ہے۔