سلسله احاديث صحيحه
الاذان و الصلاة— اذان اور نماز
باب: ایک سال کی نمازوں اور روزوں کی بنا پر شہید پر فوقیت
- " أليس قد صام بعده رمضان وصلى بعده ستة آلاف ركعة، وكذا وكذا ركعة لصلاة السنة؟ ".سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قضاعہ قبیلے کی شاخ ”بلی“ کے دو آدمی تھے ، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرا اس سے ایک سال بعد فوت ہوا ۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا ، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا ، مجھے بڑا تعجب ہوا ۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد) رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرض نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں ؟“
_____________________
رواه البيهقي في " الزهد " (73 / 2) عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن طلحة
بن عبيد الله: أن رجلين من بلي - وهو حي من قضاعة - قتل أحدهما في سبيل
الله، وأخر الآخر بعده سنة ثم مات، قال طلحة: فرأيت في المنام الجنة فتحت،
فرأيت الآخر من الرجلين دخل الجنة قبل الأول، فتعجبت. فلما أصبحت ذكرت ذلك،
فبلغت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:
فذكره. قلت: وهذا إسناد حسن إن كان أبو سلمة سمع من طلحة، فقد نفى سماعه
منه ابن معين وغيره، لكن الحديث صحيح لما له من الشواهد يأتي الإشارة إلى
بعضها. وقد أخرجه ابن ماجه (3925) وابن حبان (2466) من طريق محمد بن
إبراهيم التيمي عن أبي سلمة به أتم منه.
__________جزء: 6 /صفحہ: 176__________
وكذا رواه أحمد (1 / 161 - 162
و163)، فظننت أن (محمد بن عمرو) الذي في إسناد " الزهد " وهم، ثم ظهر أنه
رواية، فقد رأيت الإمام أحمد أخرجه (2 / 333) من طريقه عن أبي سلمة عن أبي
هريرة به، ثم من طريقه عن أبي سلمة عن طلحة.. وسنده عن أبي هريرة حسن كما
قال المنذري في " الترغيب " (1 / 142) . ويشهد له حديث عامر بن سعد بن أبي
وقاص قال: سمعت سعدا وناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولون:
فذكره أتم منه. أخرجه ابن خزيمة في " صحيحه " (310) والحاكم (1 / 200)
وأحمد (1 / 177) من طريق مخرمة عن أبيه عنه، وقال الحاكم: " صحيح الإسناد،
ولم يخرجاه، والعلة فيه أن طائفة من أهل مصر ذكروا أن مخرمة لم يسمع من أبيه
لصغر سنه،.. وأثبت بعضهم سماعه منه ". قلت: والراجح أن روايته عن أبيه
وجادة من كتاب أبيه، وهي حجة، ولعل مالكا رحمه الله أشار إلى ذلك حينما روى
الحديث في " الموطأ " (1 / 187) بلاغا، فقال: إنه بلغه عن عامر بن سعد به،
إلا أنه لم يذكر: " وناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ".
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . - أليس قد صام بعده رمضان وصلى بعده ستة آلاف ركعة، وكذا وكذا ركعة لصلاة السنة؟ . . .»
”. . . سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قضاعہ قبیلے کی شاخ ”بلی“ کے دو آدمی تھے، ان میں ایک شہید ہو گیا اور دوسرا اس سے ایک سال بعد فوت ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے خواب آیا کہ جنت کا دروازہ کھولا گیا اور بعد میں فوت ہونے والا، شہید ہونے والے سے پہلے جنت میں داخل ہوا، مجھے بڑا تعجب ہوا۔ جب صبح ہوئی تو میں نے اس خواب کا تذکرہ کیا اور بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس نے (ایک سال پہلے شہید ہونے والے کے بعد) رمضان کے روزے نہیں رکھے اور ایک سال کی (فرض نمازوں کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں؟“ . . .“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة: 482]
اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کی خاطر جام شہادت نوش کرنا عظمتوں والا عمل ہے، جس سے کسی صورت بےرخی اختیار نہیں کی جا سکتی اس حدیث کا مفہوم قطعاً یہ نہیں ہے کہ جہاد کو ترک کر دیا جائے، بلکہ اس حدیث سے نماز اور روزوں کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ قابل غور بات ہے کہ ایک آدمی شہید ہوا اور دوسرا اس کی شہادت سے ایک سال بعد طبعی موت مر کر جنت میں پہلے پہنچ گیا، اس کی وجہ ایک رمضان کے روزے اور ایک سال کی فرضی و نفلی نمازیں ہیں۔ معلوم یہ ہوا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، اس میں جس قدر ممکن ہو سکے صوم و صلاۃ اور دیگر اعمال صالحہ سرانجام دیئے جائیں اور جب جہاد کی ضرورت پڑے تو مال و جان کو خطرے میں ڈال دینے سے گریز نہ کیا جائے۔
سلسلہ احادیث صحیحہ میں الشیخ البانی رحمہ اللہ ابن حبان سے الفاظ لائے ہیں۔ ”اور ایک سال کی (فرض نمازون کی) چھ ہزار اور اس سے زائد اتنی اتنی نفل رکعتیں ادا نہیں کیں۔“
اسلامی مہینہ کبھی (29) دنوں کا ہوتا ہے اور کبھی (30) دنوں کا، اگر سال کے چھ ماہ (29، 29) دنوں کے اور چھ ماہ (30، 30) دنوں کے فرض کر لیے جائیں تو سال کے کل (354) دن بنتے ہیں، جبکہ ایک دن میں پانچ فرض نمازوں کی رکعتوں کی تعداد (17) ہے، اس اعتبار سے ایک سال میں فرض نمازوں کی کل (6018) رکعتیں بنتی ہیں، لیکن مہینوں کے دنوں میں (29) یا (30) کی وجہ سے فرق آ سکتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (6000) رکعتوں کا ذکر کیا ہے۔
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہو گیا، پھر دوسرا شخص اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا، اس کے بعد وہ بھی مر گیا، طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا، پھر دوسری بار نکلا، اور اس کو اجازت دی جو شہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3925]
فوائد و مسائل:
(1)
بعض اوقات خواب سے وہی کچھ مراد ہوتا ہے جو خواب میں نظر آیا جیسے اس خواب کو صحابہ نے حقیقت پر محمول کیا اور اس کی تعبیر کچھ اور نہیں سمجھی۔
نبی ﷺ نے بھی ان کے اس فہم کی تائید فرمائی۔
(2)
مومن کے لیے لمبی زندگی رحمت ہے جبکہ نیکیوں کی توفیق حاصل ہو۔
(3)
طویل عرصہ نماز روزے کا ثواب شہادت کے ثواب سے زیادہ ہوسکتا ہے لیکن شہید کے لیے کچھ خاص انعامات ہیں جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتے۔
(4)
اس حدیث میں ان دو صحابیوں کے جنتی ہونے کی بشارت ہے اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے لیے بھی جنت کی بشارت ہے ویسے بھی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں جنھیں اللہ کے رسول ﷺ نے نام لیکر جنت کی بشارت دی۔