حدیث نمبر: 4086
- " والذي نفسي بيده - أو قال: والذي نفس محمد بيده - لو أخطأتم حتى تملأ خطاياكم ما بين السماء والأرض، ثم استغفرتم الله عز وجل لغفر لكم، والذي نفس محمد بيده - أو قال: والذي نفسي بيده - لو لم تخطئوا لجاء الله عز وجل بقوم يخطئون ثم يستغفرون الله فيغفر لهم ".
حافظ محفوظ احمد

اخشم سدوی کہتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یا یوں فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ! اگر تم گناہ کرتے رہو ، حتیٰ کہ تمہاری خطائیں زمین و آسمان کے درمیان خلا کو بھر دیں ، پھر تم اﷲ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو تو وہ تمہیں بخش دے گا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ! یا یوں فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم لوگوں نے گناہ نہ کئے تو اللہ تعالیٰ ( ‏‏‏‏تم کو فنا کر کے ) ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو خطائیں کریں گے ، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں گے اور وہ ان کو بخش دے گا ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المنوعات / حدیث: 4086
- " والذي نفسي بيده - أو قال: والذي نفس محمد بيده - لو أخطأتم حتى تملأ خطاياكم ما بين السماء والأرض، ثم استغفرتم الله عز وجل لغفر لكم، والذي نفس محمد بيده - أو قال: والذي نفسي بيده - لو لم تخطئوا لجاء الله عز وجل بقوم يخطئون ثم يستغفرون الله فيغفر لهم ".
_____________________

أخرجه أحمد (3 / 238) حدثنا سريج بن النعمان حدثنا أبو عبيدة يعني عبد المؤمن
ابن عبيد الله السدوسي حدثني أخشم السدوسي قال: دخلت على أنس بن مالك قال
: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: فذكره. قال الهيثمي: (10 / 215
): " رواه أحمد وأبو يعلى، ورجاله ثقات ". كذا قال، وهو صواب إلا في
أخشم هذا، فإنه لم يوثقه سوى ابن حبان، وقد قال في " الإكمال ": " هو مجهول
". وقال الحافظ في " التعجيل ": " لم يذكر البخاري ولا ابن أبي حاتم فيه
جرحا، وصرح في روايته بسماعه من أنس، وللحديث الذي أخرجه له أحمد في
الاستغفار شاهد من حديث أبي هريرة عند مسلم ".
قلت: يعني الحديث الذي قبل هذا وإنما هو شاهد للشطر الثاني منه وأما الشطر
الأول، فله طريق أخرى عن أنس بنحوه، ولفظه:
__________جزء: 4 /صفحہ: 594__________

" قال الله: يا ابن آدم إنك ما
دعوتني.. ". وقد مضى برقم (127)، فالحديث حسن لغيره.
تنبيه: (أخشم) هكذا وقع في " المسند " بالميم. وفي التعجيل: (أخشن)
بالنون وهو الصواب، فقد ضبطه الحافظ عبد الغني بن سعيد الأزدي في " المؤتلف
والمختلف " ص (5): " بالخاء المعجمة والشين المعجمة والنون ". وللحديث
بشطره الأول شاهد آخر من حديث أبي هريرة نحوه بلفظ: " لو أخطأتم ". وقد مضى
برقم (903) .