سلسله احاديث صحيحه
السيرة النبوية وفيها الشمائل— سیرت نبوی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عادات و اطوار
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کو نہیں مارا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذاتی انتقام نہ لیتے تھے
- " ما ضرب صلى الله عليه وسلم بيده خادما قط ولا امرأة، ولا ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده شيئا قط إلا أن يجاهد في سبيل الله، ولا خير بين أمرين قط إلا كان أحبهما إليه أيسرهما حتى يكون إثما فإذا كان إثما كان أبعد الناس من الإثم، ولا انتقم لنفسه من شيء يؤتى إليه حتى تنتهك حرمات الله عز وجل فيكون هو ينتقم لله عز وجل ".سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خادم یا عورت کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، بلکہ کسی کو بھی اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، الًا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کر رہے ہوتے ۔ جب آپ کو دو باتوں ( میں سے ایک کو ) اختیار کرنے ( کا موقع دیا جاتا تو ) ان میں سے آسانی والی چیز آپ کو پسند ہوتی ، بشرطیکہ وہ آسانی گناہ نہ ہوتی ، اگر وہ گناہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گناہ سے سب سے زیادہ دور رہنے والے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا ، ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی حرمتیں پامال ہو رہی ہوتیں تو ایسی صورت میں آپ اللہ تعالیٰ کے لیے انتقام لیتے تھے ۔
_____________________
أخرجه أحمد (6 / 232): حدثنا عبد الرزاق حدثنا معمر عن الزهري عن عروة عن
عائشة قالت: ذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط الشيخين وتابعه هشام بن عروة فقال أحمد
(6 / 229): حدثنا أبو معاوية حدثنا هشام بن عروة عن أبيه به نحوه.
وهو عند مسلم (7 / 80) من هذا الوجه دون التخيير وعند البخاري (2 / 394)
من الوجه الأول دون الضرب.