حدیث نمبر: 4
- " من حلف فليحلف برب الكعبة ".
حافظ محفوظ احمد

سیدہ قتیلہ بنت صفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : اے محمد ! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! ( بڑا تعجب ہے ) وہ کیسے؟“ اس نے کہا : جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا : ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے رب کی قسم اٹھائے ( نہ کہ کعبہ کی ) ۔“ اس نے پھر کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! تم بڑے اچھے لوگ ہو ، لیکن کہ کاش کہ تم اللہ کے لیے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ! وہ کیسے ؟ اس نے کہا : تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: ”اس آدمی نے ایک بات کی ہے ، اگر کوئی آدمی ”ماشاء اللہ“ کہے تو وہ «ثُم شئت» “ کہے (یعنی : جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو) ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الايمان والتوحيد والدين والقدر / حدیث: 4
تخریج حدیث «أخرجه الطحاوي في ”المشكل“ 91/1 ، وأحمد: 371/6 و 372 ، وابن سعد: 309/8 ، والحاكم: 297/4 ، والنسائي: 140/2»
- " من حلف فليحلف برب الكعبة ".
_____________________

أخرجه الطحاوي في " المشكل " (1 / 91) وأحمد (6 / 371 و 372) وابن سعد
(8 / 309) والحاكم (4 / 297) من طريق المسعودي: حدثني معبد بن خالد عن
عبد الله بن يسار عن قتيلة بنت صيفي الجهنية قالت: " أتى حبر من الأحبار
رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد! نعم القوم أنتم لولا أنكم
تشركون! قال: سبحان الله! وما ذاك؟ . قال، تقولون إذا حلفتم: والكعبة،
قالت: فأمهل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا ثم قال: إنه قد قال، فمن حلف
فليحلف برب الكعبة، قال: يا محمد! نعم القوم أنتم لولا أنكم تجعلون لله ندا
! قال: سبحان الله! وما ذاك؟ قال: تقولون ما شاء الله وشئت. قالت:
فأمهل رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا ثم قال: إنه قد قال، فمن قال: ما
شاء الله فليقل معها: ثم شئت ".
قلت: وهو إسناد رجاله ثقات إلا أن المسعودي - وهو عبد الرحمن بن عبد الله بن
عتبة بن مسعود - كان اختلط. وقد ذكره الحافظ برهان الدين الحلبي في رسالته
" الاغتباط بمن رمي بالاختلاط " (ص 16) . وأما الحاكم فقال: " صحيح الإسناد
"! ووافقه الذهبي! وهذا منه غريب فقد أورد هو المسعودي هذا في " الضعفاء "
وقال: " قال ابن حبان: كان صدوقا إلا أنه اختلط بآخره ".
نعم إنه قد توبع، فقد أخرجه النسائي (2 / 140) من طريق مسعر عن معبد بن خالد
به نحوه.
__________جزء: 3 /صفحہ: 154__________

وإسناده صحيح، وذكر الحافظ في " الفتح " (11 / 457) أن النسائي
صححه في " كتاب الإيمان والنذور " وأقره لكني لم أر فيه التصحيح المذكورة،
فلعل ذلك في " السنن الكبرى " للنسائي. وقد أخرجه أحمد (2 / 69) والبيهقي
(10 / 29) عن أبي محمد الكندي قال: " جاء ابن عمر رجل فقال أحلف بالكعبة؟
قال: لا ولكن أحلف برب الكعبة، فإن عمر كان يحلف بأبيه، فقال رسول الله صلى
الله عليه وسلم: لا تحلف بأبيك، فإنه من حلف بغير الله فقد أشرك ". ثم روى
البيهقي أيضا بإسناد رجاله ثقات أن عمر أراد أن يضرب ابن الزبير لحلفه بالكعبة
وقال له " أتحلف بالكعبة؟! ".