سلسله احاديث صحيحه
الجنة والنار— جنت اور جہنم
باب: مومنوں کا جہنم میں داخل ہونے والے بھائیوں کے حق میں اپنے رب سے مجادلہ بالآخر توحید پرست گنہگار جہنم سے نکل آئیں گے کیا صوم و صلاۃ کے پابند اور حاجی لوگ بھی جہنم میں جا سکتے ہیں؟
- " إذا خلص المؤمنون من النار يوم القيامة وأمنوا، فما مجادلة أحدكم لصاحبه في الحق يكون له في الدنيا بأشد مجادلة له من المؤمنين لربهم، في إخوانهم الذين أدخلوا النار. قال: يقولون: ربنا! إخواننا كانوا يصلون معنا ويصومون معنا ويحجون معنا، فأدخلتهم النار. قال: فيقول: اذهبوا فأخرجوا من عرفتم، فيأتونهم، فيعرفونهم بصورهم، لا تأكل النار صورهم، فمنهم من أخذته النار إلى أنصاف ساقيه ومنهم من أخذته النار إلى كعبيه، فيخرجونهم، فيقولون: ربنا! أخرجنا من أمرتنا. ثم يقول: أخرجوا من كان قلبه في وزن دينار من الإيمان، ثم من كان في قلبه وزن نصف دينار من الإيمان، حتى يقول: من كان في قلبه مثقال ذرة - قال أبو سعيد: فمن لم يصدق بهذا فليقرأ هذه الآية: * (إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها ويؤت من لدنه أجرا عظيما) * (¬1) - قال: فيقولون: ربنا! قد أخرجنا من أمرتنا، فلم يبق في النار أحد فيه خير. قال: ثم يقول الله: شفعت الملائكة وشفع الأنبياء وشفع المؤمنون وبقي أرحم الراحمين. قال: فيقبض قبضة من النار - أو قال: قبضتين - ناس لم يعملوا لله خيرا قط، قد احترقوا حتى صاروا حمما. قال: فيؤتى بهم إلى ماء يقال له: ماء الحياة فيصب عليهم، فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، فيخرجون من أجسادهم مثل ¬ __________ (¬1) النساء: الآية: 40. اهـ. اللؤلؤ، في أعناقهم الخاتم: عتقاء الله. قال: فيقال لهم: ادخلوا الجنة، فما تمنيتم أو رأيتم من شيء فهو لكم، عندي أفضل من هذا. قال: فيقولون: ربنا! وما أفضل من ذلك؟ قال: فيقول: رضائي عليكم، فلا أسخط عليكم أبدا ".سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب مومن روز قیامت جہنم کی آگ سے آزاد ہو کر امن و اطمینان میں آ جائیں گے تو وہ دوزخ میں داخل ہونے والے اپنے بھائیوں کے بارے میں رب تعالیٰ سے بڑی شدومد کے ساتھ مجادلہ کریں گے ، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے دوست کے حق کی خاطر جھگڑا کرتا ہے ۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی ، جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے ، روزے رکھتے تھے اور حج کرتے تھے ، لیکن تو نے ان کو آگ میں داخل کر دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جاؤ اور جن کو پہچانتے ہو ، نکال لاؤ ۔ وہ جائیں گے اور ان کے چہروں کو دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے ، کیونکہ آگ ان کے چہروں پر کوئی اثر نہیں کر سکے گی ، کسی کو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک جلا دیا ہو گا اور کسی کو گھٹنوں تک ۔ ( بہرحال ) وہ ان کو نکال کر لے آئیں گے اور کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم ان مومنوں کو نکال لائے ہیں جن کے بارے میں تو نے حکم دیا تھا ۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس کے دل میں دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ . . . ، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے ( اسے بھی جہنم سے باہر نکال لاؤ ) ۔ ” سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جو آدمی اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتا ، وہ یہ آیت پڑھ لے : «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» (۴-النساء:۴۰) ”بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔ “ ( حدیث مبارکہ کا بقیہ حصہ یہ ہے ) وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! ہم تیرے حکم کے مطابق مومنوں کو جہنم سے نکال لائے ہیں ، اب وہاں وہی رہ گیا ہے جس میں کسی قسم کی خیر و بھلائی نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : فرشتوں نے سفارش کر لی ، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور مومنوں نے بھی سفارش کر لی ہے ، اب صرف ارحم الراحمین باقی رہ گئے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ آگ سے ایسے لوگوں کی ایک یا دو مٹّھیاں بھریں گے ، جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہو گا اور وہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے ۔ ان کو «ماء الحياة» ( آب حیات ) کے پاس لا کر ان پر یہ پانی بہایا جائے گا ، ان کا جسم سیلاب کے بہاؤ میں اگنے والے دانے کی طرح اگے گا اور وہ لؤلؤ موتی کی طرح ہو گا ، ان کی گردنوں میں «عتقاء الله» ( اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ) نقش کی مہر ہو گی ۔ ان سے کہا جائے گا : جنت میں داخل ہو جاؤ ، تم جو آرزو کرو گے یا جو چیز دیکھو گے وہ تمہیں دے دی جائے گی اور بعض نعمتیں اس سے بھی بڑھ کر ہوں گی ۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب ! وہ نعمتیں کون سی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تم پر راضی ہو گیا ہوں ، کبھی ناراض نہیں ہوں گا ۔“
_____________________
أخرجه الإمام أحمد في " مسنده " (2 / 49): حدثنا عبد الرزاق - وهذا في
" مصنفه " (11 / 409 / 20857) - قال: أخبرنا معمر عن زيد بن أسلم عن عطاء بن
يسار عن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
وكذلك أخرجه النسائي (5010) وابن ماجة (60) وابن خزيمة في " التوحيد " (
184)، كلهم عن عبد الرزاق به إلا أن النسائي وقعت الآية عنده: * (إن الله لا
يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء) * (¬1) . وهو مخالف لرواية
الآخرين، ولا أدري ممن الوهم ولكن رواية الجماعة الأولى، والأخرى شاذة.
وإن مما يؤيد ذلك أن الحديث أخرجه البخاري (7439) من طريق سعيد بن أبي هلال
، ومسلم (1 / 114 - 117) من طريق حفص بن ميسرة كلاهما عن زيد بن أسلم به
مطولا بالآية الأولى.