- " الحسن مني والحسين من علي ".انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ جاسوسی کے لیے نکلے ، اچانک ایک تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے ۔ ان کی ماں نے کہا : اے اللہ کے رسول (23-المؤمنون:1) ! آپ جانتے ہیں کہ حارثہ کا میرے ہاں کیا مقام تھا ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرتی ہوں ، وگرنہ آپ دیکھیں گے کہ میں ( اس کی جدائی پر ) کیا کرتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ام حارثہ ! جنت ایک نہیں ہے ، بلکہ کئی جنتیں ہیں اور ( تیرا بیٹا ) حارثہ جنت کے افضل حصے میں یا جنۃ الفردوس میں ہے ۔“
_____________________
أخرجه أبو داود (2 / 186) وأحمد (4 / 132) وابن عساكر (4 / 258 / 2) من
طريق بقية حدثنا بجير بن سعد عن خالد بن معدان قال: " وفد المقدام بن معدي
كرب وعمرو بن الأسود إلى معاوية، فقال معاوية للمقدام: أعلمت أن الحسن بن
علي توفي؟ فرجع المقدام، فقال له معاوية: أتراها مصيبة؟ فقال: ولم لا
أراها مصيبة، وقد وضعه رسول الله في حجره وقال ... " فذكره.
__________جزء: 2 /صفحہ: 450__________
قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات، وقال المناوي: " قال الحافظ العراقي:
وسنده جيد، وقال غيره: فيه بقية صدوق له مناكير وغرائب وعجائب ".
قلت: ولا منافاة بين القولين، فإن بقية إنما يخشى من تدليسه وهنا قد صرح
بالتحديث كما رأيت وهو في رواية أحمد.