- (إنّ أهل الجنة يأكلون فيها ويشربون، ولا يتفلون، ولا يبولون، ولا يتغوطون، ولا يمتخطون. قالوا: فما بال الطعام؟! قال: جُشاءٌ، ورشح كرشح المسك، يُلهمون التسبيح والتحميد، كما يلهمون النفس) .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : ”بیشک جنتی لوگ ( قسما قسم کے ماکولات ) کھائیں گے اور ( نوع بنوع مشروبات ) پئیں گے ، لیکن وہ نہ تھوکیں گے ، نہ پیشاب کریں گے ، نہ پائخانہ کریں گے ۔ نہ ناک سنکیں گے ۔“ صحابہ نے عرض کیا : کھانے کا کیا بنے گا ( یعنی وہ کیسے ہضم ہو گا ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بس ایک ڈکار ہو گا ( یعنی ڈکار سے کھانا ہضم ہو جائے گا ) ، ان کے پسینے کی ( خوشبو ) کستوری کی مانند ہو گی اور ان کے اندر ( اللہ تعالیٰ کی ) تسبیح و تکبیر ( کا ورد ) سانس کی طرح ڈال دیا جائے گا ۔“
_____________________
هو من حديث جابر، وله عنه طرق:
الأولى: عن أبي سفيان عن جابرقال: سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول: ... فذكره.
أخرجه مسلم (8/147)، وابن حبان (7392)، وأحمد (3/316) . ولأبي داود (4741) منه الطرف الأول إلى قوله: "ويشربون ".
الثانية: عن أبي الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ... فذكره.
أخرجه مسلم (8/147)، وأحمد (3/349 و384)، وكذا الدارمي (2/335) .
الثالثة: عن ماعز التميمي عن جابر بن عبد الله قال:
سئل رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: أيأكل أهل الجنة؟ قال:
__________جزء: 7 /صفحہ: 1473__________
" نعم، ويشربون، ولا ... "إلخ.
أخرجه أحمد (3/ 354) .
وإسناده جيد في المتابعات، ماعز هذا لم يوثقه غير ابن حبان. *