حدیث نمبر: 3935
- " أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟ قلنا: نعم، فقال: أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟ فقلنا: نعم، فقال: أترضون أن تكونوا شطر أهل الجنة؟ قلنا: نعم ، قال: والذي نفس محمد بيده إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة، وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏کیا تم اس بات پہ راضی ہو کہ تمہیں جنت کا چوتھائی حصہ مل جائے ؟“ ‏‏‏‏ ہم نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”‏‏‏‏کیا تم جنت کے تیسرے حصے پر راضی ہو جاؤ گے ؟“ ‏‏‏‏ ہم نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم اس بات پر راضی ہو جاؤ گے کہ تمہیں جنت کا نصف حصہ مل جائے ؟“ ہم نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تمہیں جنت کا نصف حصہ ملے گا ، ( ‏‏‏‏اتنا وسیع حصہ ملنے کی ) وجہ یہ ہے کہ جنت میں صرف مسلمان داخل ہوں گے اور تم میں شرک کرنے والے لوگوں کا تناسب اتنا ہی ہے جتنا کہ کالے رنگ کے بیل کی جلد میں سفید بال یا سرخ رنگ کے بیل کی جلد میں کالے بال کا ہوتا ہے ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الجنة والنار / حدیث: 3935
- " أترضون أن تكونوا ربع أهل الجنة؟ قلنا: نعم، فقال: أترضون أن تكونوا ثلث أهل الجنة؟ فقلنا: نعم، فقال: أترضون أن تكونوا شطر أهل الجنة؟ قلنا: نعم، قال: والذي نفس محمد بيده إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة، وذلك أن الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة وما أنتم في أهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود أو كالشعرة السوداء في جلد الثور الأحمر ".
_____________________

أخرجه البخاري (8 / 93 ـ نهضة) ومسلم (1 / 139) والترمذي (3 / 330 ـ 331
) وابن ماجه (2 / 573) والطحاوي في " المشكل " (1 / 154 ـ 156) وأحمد (
1 / 386، 437 ـ 438، 445) وأبو نعيم (4 / 152) من طريق أبي إسحاق عن عمرو
بن ميمون عن عبد الله قال: " كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في قبة،
فقال ... " فذكره. وقال الترمذي: " حديث حسن صحيح ".
(تنبيه) عزاه السيوطي في " زيادات الجامع الصغير " لأحمد والترمذي وابن
ماجه فقط، وهذا تقصير فاحش! وكذلك هو في " الجامع الكبير " (1 / 15 / 2) .