سلسله احاديث صحيحه
المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات— ابتدائے (مخلوقات)، انبیا و رسل، عجائبات خلائق
باب: سورج کیچڑ میں غروب ہو کر سجدہ کرتا ہے
- " هل تدري أين تغرب هذه؟ قلت: الله ورسوله أعلم. قال: فإنها تغرب في عين حامية ".سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں گدھے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا ، غروب آفتاب کا وقت تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تو جانتا ہے کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک رواں گرم چشمے میں غروب ہوتا ہے ، ( اور چلتا رہتا ہے ، حتیٰ کہ ) عرش کے نیچے پہنچ کر اپنے ربّ کے سامنے سجدے کی حالت میں گر پڑتا ہے ۔ جب اس کے طلوع ہونے کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتے ہیں ، سو وہ طلوع ہوتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ ہو گا کہ سورج ( مشرق کی بجائے ) مغرب سے طلوع ہو تو وہ اسے روک لے گا ۔ سورج کہے گا : اے میرے رب ! بیشک میری مسافت دور ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کہے گا : تو پھر مغرب سے طلوع ہو جا ، اور یہ اس وقت ہو گا جب ”کسی نفس کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا۔ “ ( سورۃ الانعام : ۱۵۸ )
_____________________
أخرجه أبو داود (4002) واللفظ له، وأحمد (5 / 165) عن يزيد بن هارون عن
سفيان بن حسين عن الحكم بن عتيبة عن إبراهيم التيمي عن أبيه عن أبي ذر قال
: " كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حمار والشمس عند غروبها
، فقال ... " فذكره. وزاد أحمد: " تنطلق، حتى تخر لربها عز وجل ساجدة تحت
العرش، فإذا حان خروجها أذن الله لها فتخرج، فتطلع، فإذا أراد أن يطلعها حيث
تغرب حبسها، فتقول: يا رب! إن مسيري بعيد، فيقول لها اطلعي من حيث غبت،
فذلك حين لا ينفع نفسا إيمانها ". قلت: وإسناده صحيح على شرط مسلم، وقد
أخرجه هو (1 / 96) والبخاري (3 / 318) والطيالسي (460) وأحمد أيضا (5
/ 145، 152 / 177) من طرق أخرى عن إبراهيم بن يزيد التيمي به دون ذكر الغروب
في العين الحامية.
__________جزء: 5 /صفحہ: 528__________