حدیث نمبر: 3914
- " نعم يا أبا بكر! إن لله ملائكة تنطق على ألسنة بني آدم بما في المرء من الخير والشر ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، اسی اثنا میں وہاں سے ایک جنازہ گزارا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ”یہ جنازہ کس کا ہے ؟“ صحابہ نے کہا : یہ فلاں آدمی کا جنازہ ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا تھا ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا تھا اور اس معاملے میں کوشش کرتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”واجب ہو گئی ، واجب ہو گئی ، واجب ہو گئی ۔“ اتنے میں ایک اور جنازہ گزارا گیا ، اس کے بارے صحابہ نے کہا : یہ فلاں آدمی کا جنازہ ہے ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا تھا اور اس معاملے میں کوشش کرتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”واجب ہو گئی ، ثابت ہو گئی ، واجب ہو گئی ۔“ صحابہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ایک جنازے کی تعریف کی گئی اور دوسرے کی مذمت کی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بارے میں فرمایا : ”واجب ہو گئی ، واجب ہو گئی ، واجب ہو گئی ۔“ ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ہاں ، ابوبکر !“ بیشک اﷲ تعالیٰ کے فرشتے خیر و شر کے معاملے میں بنو آدم کی زبانوں کی موافقت کرتے ہوئے بولتے ہیں ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3914
- " نعم يا أبا بكر! إن لله ملائكة تنطق على ألسنة بني آدم بما في المرء من الخير والشر ".
_____________________

أخرجه الحاكم (1 / 377) والديلمي (1 / 2 / 258) وأبو شريح الأنصاري في
" جزء بيبي " (171 / 2) من طريق يونس بن محمد حدثنا حرب بن ميمون عن النضر بن
أنس عن أنس قال: " كنت قاعدا مع النبي صلى الله عليه وسلم، فمر بجنازة،
فقال: ما هذه الجنازة؟ قالوا جنازة فلان الفلاني كان يحب الله ورسوله ويعمل
بطاعة الله ويسعى فيها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وجبت وجبت وجبت
، وبجنازة أخرى قالوا: جنازة فلان الفلاني كان يبغض الله ورسوله ويعمل
بمعصية الله ويسعى فيها، فقال: وجبت وجبت وجبت، فقالوا: يا رسول الله قولك
في الجنازة والثناء عليها: أثني على الأول خير، وعلى الآخر شر، فقلت فيها
: " وجبت وجبت وجبت "؟ فقال: فذكره. وقال الحاكم: " صحيح على شرط مسلم ".
ووافقه الذهبي، وهو كما قالا. وهو في " الصحيحين " وغيرهما من طرق أخرى
عن أنس نحوه، يزيد بعضهم على بعض، وقد جمعت الزيادات الثابتة منها، وسقتها
في سياق واحد في " أحكام الجنائز " (ص 44)، وفيه بحث هام حول الشهادة للميت
بالخير. فراجعه.