سلسله احاديث صحيحه
المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات— ابتدائے (مخلوقات)، انبیا و رسل، عجائبات خلائق
باب: عورتیں ایسا لباس نہیں پہن سکتیں، جو مردوں کو ان کی طرف متوجہ کرے
- " كان في بني إسرائيل امرأة قصيرة، فصنعت رجلين من خشب، فكانت تسير بين امرأتين قصيرتين واتخذت خاتما من ذهب وحشت تحت فصه أطيب الطيب: المسك فكانت إذا مرت بالمجلس حركته فنفنخ ريحه (وفي رواية) : وجعلت له غلقا فإذا مرت بالملأ أو بالمجلس قالت به ففتحته، ففاح ريحه ".سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بنو اسرائیل میں ایک کوتاہ قد عورت تھی ، اس نے کھڑاؤں ( لکڑی کے جوتے ) بنوا لیے ۔ اب وہ دو پست قد عورتوں کے درمیان چلتی تھی اور سونے کی ایسی انگوٹھی پہنتی تھی ، جس کے نگینے میں بہترین خوشبو کستوری بھر لیتی تھی ۔ جب کسی مجلس کے پاس سے گزرتی تو نگینے کو حرکت دیتی ، سو خوشبو پھیل جاتی تھی ۔“ اور ایک روایت میں ہے : ”اس نے نگینے کا ایک ڈھکن بنوایا تھا ، جب کسی گروہ یا مجلس کے پاس سے گزرتی تو اسے کھول دیتی تھی اور خوشبو پھیل جاتی تھی ۔“
_____________________
أخرجه أحمد في " المسند " (3 / 40): حدثنا عثمان بن عمرو حدثنا المستمر
ابن الريان حدثنا أبو نضرة عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم
قال: فذكره.
ثم قال (3 / 46): حدثنا عبد الصمد حدثنا المستمر بن الريان به وزاد في
أوله:
" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر الدنيا فقال: إن الدنيا خضرة حلوة،
فاتقوها واتقوا النساء. ثم ذكر نسوة ثلاثا من بني إسرائيل امرأيتن طويلتين
تعرفان، وامرأة قصيرة لا تعرف فاتخذت رجلين من خشب ... " الحديث نحوه وفيه
الرواية الأخرى.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم. وقد أخرجه في " صحيحه " (7 / 48) من
طريق شعبة عن خليد بن جعفر والمستمر قالا: سمعنا أبا نضرة به مختصرا.
ومن طريقه عن خليد وحده به نحو رواية عبد الصمد دون الزيادة في أوله.
(فنفخ) كذا الأصل بالخاء المعجمة أي فاح كما في الرواية الأخرى.
__________جزء: 1 /صفحہ: 877__________
وكنت أظن
أن الصواب (فنفح) بالحاء المهملة، ففي القاموس: " نفح الطيب كمنع فاح ...
" حتى رأيت في " النهاية " في مادة " نفخ ": " ... من نفخت الريح إذا جاءت
بغتة " فظننت أنها صحيحة. والله أعلم.