حدیث نمبر: 3875
- (إنّه لم يُقبض نبيٌ حتّى يُرى مقعدُه من الجنة، ثم يُخيّر) .
حافظ محفوظ احمد

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحتمند تھے تو فرمایا کرتے تھے : ”کسی نبی کو اس وقت تک موت نہیں آتی ، جب تک اسے اس کا جنتی ٹھکانہ نہ دکھایا جائے اور پھر ( ‏‏‏‏موت و حیات میں ) اختیار نہ دے دیا جائے ۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا ، تو آپ پر غشی طاری ہو گئی ، پھر افاقہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا شروع کر دیا اور یہ کہنے لگ گئے : ”اے اللہ ! مجھے رفیق اعلی تک پہنچا دے ۔“ اس وقت میں نے کہا : مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ‏‏‏‏موت و حیات کے اختیار میں ) ہمیں ترجیح نہیں دی ، اور میں نے پہچان لیا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حدیث کا مصداق بن رہے ہیں ، جو ہمیں تندرستی کی حالت میں بیان کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ یہ تھا : ”‏‏‏‏اے اللہ ! رفیق اعلیٰ تک پہنچا دے ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3875
- (إنّه لم يُقبض نبيٌ حتّى يُرى مقعدُه من الجنة، ثم يُخيّر) .
_____________________

رواه البخاري (4463) - واللفظ له-، و (4437)، ومسلم (7/137- 138)، وأحمد (6/89) من طريق عروة وسعيد بن المسيّب أن عائشة قالت:
كان النبي - صلى الله عليه وسلم - يقول وهو صحيح: ... فذكرته.
فلما نزل به- ورأسه على فخذي- غشي عليه، ثم أفاق، فأشخص بصره إلى سقف البيت، ثم قال:
"اللهم! الرفيق الأعلى".
فقلت: إذن؛ لا يختارنا، وعرفتُ أنه الحديث الذي كان يحدثنا وهو صحيح. قالت: فكان آخر كلمة تكلم بها:
"اللهم! الرفيق الأعلى". *