سلسله احاديث صحيحه
العلم والسنة والحديث النبوي— علم سنت اور حدیث نبوی
باب: جاہل کو کیسے تعلیم دی جائے؟
- " ما علمته إذ كان جاهلا، وأطعمته إذ كان ساغبا أو جائعا ".سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں قحط سالی میں مبتلا ہو گیا ، میں مدینہ کے باغوں میں سے کسی ایک باغ میں داخل ہوا ، ایک سٹے کو ملا اور اس سے دانے نکالے ۔ کچھ دانے کھا لیے اور کچھ کپڑے میں نے اٹھا لیے ، اتنے میں باغ کا مالک آ گیا ، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا ۔ میں ( شکایت لے کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ساری بات بتائی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( باغ کے اس مالک ) سے فرمایا : ” وہ جاہل تھا تو نے اسے تعلیم نہیں دی اور وہ بھوکا تھا تو نے اسے کھلایا نہیں ۔ “ پھر آپ نے اسے حکم دیا ، اس نے میرا کپڑا مجھے لوٹا دیا اور مجھے ایک یا نصف وسق کھانے کا بھی دیا ۔
_____________________
أخرجه أبو داود (1 / 408 - 409) وابن ماجة (2 / 44) والحاكم (4 / 133)
والبيهقي (10 / 2) وأحمد (4 / 166 - 167) وابن سعد (7 / 55) عن أبي
بشر عن عبادة بن شرحبيل قال: " أصابتني سنة، فدخلت حائطا من حيطان
المدينة، ففركت سنبلا فأكلت وحملت في ثوبي، فجاء صاحبه، فضربني وأخذ ثوبي
، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال له: (فذكره) وأمره، فرد علي
ثوبي وأعطاني وسقا أو نصف وسق من طعام ". وقال الحاكم: " صحيح الإسناد "
ووافقه الذهبي، وهو كما قالا.