حدیث نمبر: 3808
- " إن موسى قال: يا رب أرني آدم الذي أخرجنا ونفسه من الجنة، فأراه الله آدم ، فقال: أنت أبونا آدم؟ فقال له آدم: نعم، فقال: أنت الذي نفخ الله فيك من روحه، وعلمك الأسماء كلها، وأمر الملائكة فسجدوا لك، قال: نعم، قال: فما حملك على أن أخرجتنا ونفسك من الجنة؟ فقال له آدم: ومن أنت؟ قال: أنا موسى، قال: أنت نبي بني إسرائيل الذي كلمك الله من وراء حجاب، لم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه؟ قال: نعم، قال: أفما وجدت أن ذلك كان في كتاب الله قبل أن أخلق؟ قال: نعم، قال: فما تلومني في شيء سبق من الله تعالى فيه القضاء قبلي؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: فحج آدم موسى، فحج آدم موسى ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! مجھے آدم (‏‏‏‏علیہ السلام) دکھائیے جس نے ہمیں اور اپنے آپ کو جنت سے نکال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آدم دکھائے۔ (‏‏‏‏آسانی کے لیے مکالمہ کی صورت میں ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔) موسیٰ علیہ السلام: آپ ہمارے باپ آدم ہیں؟ آدم علیہ السلام: جی ہاں۔ موسیٰ علیہ السلام: آپ وہی ہیں جن میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی، سارے کے سارے اسماء سکھلائے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں؟ آدم علیہ السلام: جی ہاں، موسیٰ علیہ السلام: سو کس چیز نے آپ کو اس بات پر اکسایا کہ آپ نے ہمیں اور اپنے آپ کو جنت سے نکال دیا؟ آدم علیہ السلام: آپ کون ہیں؟ موسیٰ علیہ السلام: میں موسیٰ ہوں۔ آدم علیہ السلام: آپ بنی اسرائیل کے وہی رسول ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے کسی قاصد کے بغیر (‏‏‏‏براہ راست) پردے کے پیچھے سے کلام کی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام جی ہاں۔ آدم علیہ السلام کیا آپ کو (‏‏‏‏تورات میں) یہ بات ملی کہ میری پیدائش سے پہلے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں (‏‏‏‏میرا جنت سے نکلنا) لکھا جا چکا تھا؟ موسیٰ علیہ السلام جی ہاں۔ آدم علیہ السلام: اﷲ تعالیٰ کا جو فیصلہ مجھ سے پہلے میرے بارے میں سبقت لے جا چکا ہے، کیا آپ مجھے اس پر ملامت کرتے ہیں؟“ یہ بات بیان کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے، آدم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3808
- " إن موسى قال: يا رب أرني آدم الذي أخرجنا ونفسه من الجنة، فأراه الله آدم، فقال: أنت أبونا آدم؟ فقال له آدم: نعم، فقال: أنت الذي نفخ الله فيك من روحه، وعلمك الأسماء كلها، وأمر الملائكة فسجدوا لك، قال: نعم، قال: فما حملك على أن أخرجتنا ونفسك من الجنة؟ فقال له آدم: ومن أنت؟ قال: أنا موسى، قال: أنت نبي بني إسرائيل الذي كلمك الله من وراء حجاب، لم يجعل بينك وبينه رسولا من خلقه؟ قال: نعم، قال: أفما وجدت أن ذلك كان في كتاب الله قبل أن أخلق؟ قال: نعم، قال: فما تلومني في شيء سبق من الله تعالى فيه القضاء قبلي؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: فحج آدم موسى، فحج آدم موسى ".
_____________________

أخرجه أبو داود (4702) وعنه البيهقي في " الأسماء والصفات " (ص 193)
وابن خزيمة
في " التوحيد " (ص 94) من طريق هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن
أبيه أن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
قلت: وهذا إسناد حسن، رجاله ثقات رجال الشيخين غير هشام بن سعد وهو صدوق له
أوهام، وقد حسنه ابن تيمية في أول رسالته في " القدر ". والحديث في
" الصحيحين " وغيرهما من حديث أبي هريرة مختصرا. قوله: (فحج آدم موسى) أي
غلبه بالحجة. واعلم أن العلماء قد اختلفوا في توجيه ذلك، وأحسن ما وقفت
عليه ما أفاده شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله تعالى، إنما هو أن موسى لامه
على ما فعل لأجل ما حصل لذريته من المصيبة بسبب أكله من الشجرة، لا لأجل حق
الله في الذنب، فإن آدم كان قد تاب من الذنب، وموسى عليه السلام يعلم أن بعد
التوبة والمغفرة لا يبقى ملام على الذنب، ولهذا قال: " فما حملك على أن
أخرجتنا ونفسك من الجنة؟ "، لم يقل: لماذا خالفت الأمر؟ والناس مأمورون
عند المصائب التي تصيبهم بأفعال الناس أو بغير أفعالهم بالتسليم للقدر وشهود
الربوبية ... فراجع كلامه في ذلك فإنه مهم جدا في الرسالة المذكورة وفي " كتاب
القدر " من " الفتاوى " المجلد الثامن وكلام غيره في " مرقاة المفاتيح " (1 /
123 - 124) .