حدیث نمبر: 3799
- (إنّ هذا بكى؛ لما فَقَدَ من الذِّكر) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک تنے کا سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے ۔ ایک انصاری عورت ، جس کا غلام بڑھئی تھا ، نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا غلام بڑھئی ہے ، کیا میں اسے یہ حکم دے دوں کہ وہ آپ کے لیے ایک ممبر بنائے ، تاکہ آپ اس پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما سکیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیوں نہیں“ ۔ پس اس نے منبر بنایا ۔ جب جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمانے لگے ، تو اس تنے نے بچے کی طرح رونا شروع کر دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب اس تنے نے ذکر ( ‏‏‏‏یعنی خطبہ کی باتیں ) گم پائیں تو اس نے رونا شروع کر دیا ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3799
- (إنّ هذا بكى؛ لما فَقَدَ من الذِّكر) .
_____________________

أخرجه البخاري (2095و3584)، وأحمد (3/300)، والبيهقي في "دلائل النبوة" (2/ 560) من طريق عبد الواحد بن أيمن عن أبيه عن جابر قال:
كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يخطب إلى جذع نخلة، قال: فقالت امرأة من الأنصار- كان لها غلام نجار-: يا رسول الله! إن لي غلاماً نجاراً، أفآمره أن يتخذ لك منبراً تخطب عليه؟ قال: "بلى"؛ قال: فاتخذ له منبراً، قال: فلما كان يوم الجمعة؛ خطب على المنبر. قال: فأنّ الجذع الذي كان يقوم عليه كما يئن الصبي، فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: ... فذكر الحديث.
والسياق لأحمد. *