سلسله احاديث صحيحه
المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات— ابتدائے (مخلوقات)، انبیا و رسل، عجائبات خلائق
باب: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپنے میں شقِّ بطن کا واقعہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام فرزندان امت سے بھاری ہیں
- " يا أبا ذر! أتاني ملكان وأنا ببعض بطحاء مكة، فوقع أحدهما على الأرض وكان الآخر بين السماء والأرض، فقال أحدهما لصحابه: أهو هو؟ قال: نعم، قال: فزنه برجل فوزنت به، فوزنته، ثم قال: فزنه بعشرة، فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بمائة فوزنت بهم، فرجحتهم، ثم قال: زنه بألف فوزنت بهم، فرجحتهم ، كأني أنظر إليهم ينتثرون علي من خفة الميزان، قال: فقال أحدهما لصاحبه: لو وزنته بأمة لرجحها ".سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب آپ کو تاج نبوت پہنایا گیا تو آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ نبی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”ابوذر ! میرے پاس دو فرشتے آئے اور میں اس وقت مکہ کی کسی وادی میں تھا ، ان میں ایک زمین پر تھا اور دوسرا زمین و آسمان کے مابین ۔ ایک نے دوسرے کے کہا : ( جس شخصیت کی طرف ہم کو بھیجا گیا ہے ) کیا یہ وہی ہے ؟ دوسرے نے کہا : جی ہاں ۔ اس نے کہا : ایک آدمی کے ساتھ ان کا وزن کرو ، میرا وزن کیا گیا ، لیکن میں بھاری رہا ۔ اس نے کہا : دس آدمیوں سے ان کا وزن کرو ۔ میرا وزن کیا گیا ، لیکن میں ان پر بھی بھاری ثابت ہوا ۔ اس نے کہا : سو افراد کے ساتھ وزن کرو ۔ میرا وزن کیا گیا ، لیکن میرا وزن زیادہ رہا ۔ اس نے کہا : ہزار افراد کے ساتھ وزن کرو ۔ میرا وزن کیا ، لیکن ( اب کی بار بھی ) میں ہی وزنی رہا اور ان ( ہزار آدمیوں کا پلڑا ہلکا ہونے کی وجہ سے ) اتنا اوپر اٹھ گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہیں وہ خفت میزان کی وجہ سے مجھ پر گر ہی نہ جائیں ۔ ( بالآخر ) ایک نے دوسرے سے کہا : اگر انکا وزن ان کی پوری امت سے کر دے تو یہ سب پر بھاری ثابت ہوں گے ۔“
_____________________
أخرجه الدارمي (1 / 9): حدثنا عبد الله بن عمران حدثنا أبو داود حدثنا جعفر
بن عثمان القرشي عن عثمان بن عروة بن الزبير عن أبيه عن أبي ذر الغفاري قال
: قلت: يا رسول الله! كيف علمت أنك نبي حين استنبئت؟ فقال: يا أبا ذر أتاني
.. إلخ. وهذا إسناد جيد رجاله كلهم ثقات معروفون، وفي جعفر بن عثمان - وهو
ابن عبد الله بن عثمان - كلام لا يضر إن شاء الله تعالى، وقد وثقه أبو حاتم،
وأبو داود في الإسناد هو الطيالسي، ومن طريقه رواه ابن عساكر أيضا كما في "
البداية " (2 / 276) والعقيلي كما في " الميزان " (1 / 190) .
__________جزء: 6 /صفحہ: 69__________
وللحديث
شواهد كثيرة، فانظر (أنا دعوة أبي إبراهيم)، رقم (1545 و 1546) والحديث
عند ابن عساكر أتم منه، ففيه ذكر شق صدره، وخياطته، وجعل الخاتم بين كتفيه
. قال: " فما هو إلا أن وليا عني، فكأنما أعاين الأمر معاينة ".