حدیث نمبر: 3786
- " هل تسمعون ما أسمع؟ قالوا: ما نسمع من شيء. قال: إني لأسمع أطيط السماء، وما تلام أن تئط وما فيها موضع شبر إلا وعليه ملك ساجد أو قائم ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما تھے ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پوچھنے لگے : جو میں سن رہا ہوں ، کیا تم بھی سن رہے ہو ؟“ انہوں نے جواب دیا : ہم تو کچھ بھی نہیں سن رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے تو آسمان کا چرچرانا سنائی دے رہا ہے ، اور اسے یہی زیب دیتا ہے کہ وہ چرچراتا رہے ، کیونکہ اس میں ایک بالشت کے بقدر جگہ بھی ایسی نہیں ، جہاں کوئی فرشتہ سجدے یا قیام کی حالت میں نہ ہو ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3786
- " هل تسمعون ما أسمع؟ قالوا: ما نسمع من شيء. قال: إني لأسمع أطيط السماء، وما تلام أن تئط وما فيها موضع شبر إلا وعليه ملك ساجد أو قائم ".
_____________________

أخرجه ابن نصر في " الصلاة " (43 / 2) عن صفوان بن محرز عن حكيم بن حزام
رضي الله عنه قال: " بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم مع أصحابه رضي الله
عنهم إذ قال لهم ... " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح، رجاله كلهم ثقات.
__________جزء: 3 /صفحہ: 49__________

ثم أخرج له شاهدا من حديث عائشة
مرفوعا نحوه، وثانيا عن ابن مسعود موقوفا، وقد خرجتهما آنفا، وثالثا من
حديث أبي ذر، وفي متنه زيادة، وقد خرجته في " المشكاة " (5347) .