حدیث نمبر: 3785
- " أتسمعون ما أسمع؟ قالوا: ما نسمع من شيء، قال: إني لأسمع أطيط السماء وما تلام أن تئط وما فيها موضع شبر إلا وعليه ملك ساجد أو قائم ".
حافظ محفوظ احمد

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں تشریف فرما تھے ، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تم سن رہے ہو جو کچھ میں سن رہا ہوں ؟“ انہوں نے کہا : ہم تو کوئی چیز نہیں سن رہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بلاشبہ میں تو آسمان کے چڑچڑانے کی آواز سن رہا ہوں اور اسے چڑچڑانے پر ملامت بھی نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ وہاں تو ایک بالشت کے بقدر بھی جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی فرشتہ سجدہ یا قیام نہ کر رہا ہو ۔“

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / المبتدا والانبياء وعجائب المخلوقات / حدیث: 3785
- " أتسمعون ما أسمع؟ قالوا: ما نسمع من شيء، قال: إني لأسمع أطيط السماء وما تلام أن تئط وما فيها موضع شبر إلا وعليه ملك ساجد أو قائم ".
_____________________

أخرجه الطحاوي في " مشكل الآثار " (2 / 43) والطبراني في " المعجم الكبير "
(1 / 153 / 1) من طريق عبد الوهاب بن عطاء حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة
عن صفوان بن محرز عن حكيم بن حزام قال: " بينما رسول الله صلى الله عليه
وسلم في أصحابه إذ قال لهم.... " فذكره.
قلت: وهذا إسناد صحيح على شرط مسلم وفي ابن عطاء كلام لا يضر. وله شاهد من
حديث أنس بن مالك مرفوعا بلفظ:
__________جزء: 2 /صفحہ: 506__________

" أطت السماء وحق لها أن تئط ... " الحديث
مثله. أخرجه أبو نعيم فى " الحلية " (6 / 269) من طريق زائدة بن أبي الرقاد
حدثنا زياد النميري عنه. وهذا إسناد ضعيف.