حدیث نمبر: 3767
- (أمَا إنِّها ستكون لكمُ الأنماطُ) .
حافظ محفوظ احمد

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تمہارے پاس چادریں ( ‏‏‏‏یا غالیچے ) ہیں ؟“ ، میں نے کہا : ہمارے پاس چادریں کہاں سے آئیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”آگاہ رہو ! عنقریب تمہارے پاس ہوں گی ۔“ سیدنا جابر کہتے ہیں : جب میں اپنی بیوی کو کہتا تھا کہ چادروں کو مجھ سے دور کر دے ، تو وہ کہتی تھی : کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا : ”عنقریب تمہارے پاس چادریں ہوں گی ۔“ میں یہ سن کر اس کو چھوڑ دیتا تھا ۔

حوالہ حدیث سلسله احاديث صحيحه / الفتن و اشراط الساعة والبعث / حدیث: 3767
- (أمَا إنِّها ستكون لكمُ الأنماطُ) .
_____________________

أخرجه البخاري (3631و5161)، ومسلم (6/146)، وأبو داود (4145)، والنسائي (2/94)، والترمذي (2774) - وصححه-، وأحمد (3/294) كلهم من طريق محمد بن المنكدر عن جابر رضي الله عنه قال: قال النبي- صلى الله عليه وسلم -:
"هل لكم من أنماط؟ ".
قلت: وأنى يكون لنا الأنماط؟! قال: ... فذكره. قال جابر:
فأنا أقول لها- يعني: امرأته-: أخِّري عنا أنماطك، فتقول: ألم يقل النبي- صلى الله عليه وسلم -: "إنها ستكون لكم الأنماط "؟! فأدعها!. *