سلسله احاديث صحيحه
العلم والسنة والحديث النبوي— علم سنت اور حدیث نبوی
باب: کیا ریاکاری کی پہچان ممکن ہے؟
- " إنكم لن تنالوا هذا الأمر بالمغالبة ".سیدنا ابن ادرع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پہرہ دے رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے لیے نکلے ، جب مجھے دیکھا تو میرا ہاتھ بھی پکڑ لیا ، پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآواز بلند تلاوت کر رہا تھا ۔ اسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ یہ ریاکاری کرنے والا بن جائے ۔ “ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ قرآن کی بلند آواز سے تلاوت کر رہا ہے ( (بھلا اس میں کیا حرج ہے ؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا اور فرمایا : ” تم اس دین کو غلبے کے ساتھ نہیں پا سکتے ۔ “ وہ کہتے ہیں : پھر ایک رات کو ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے نکلے ، جب کہ میں ہی پہرہ دے رہا تھا ، ( اسی طرح ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا ( اور ہم چل پڑے ) اور ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز میں بآوز بلند قرآن کی تلاوت کر رہا تھا ۔ اب کی بار میں نے کہا: قریب ہے کہ یہ شخص ریاکاری کرنے والا بن جائے ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرا رد کرتے ہوئے) فرمایا : ” ہرگز نہیں ، یہ تو بہت توبہ کرنے والا ہے ۔ “ جب میں نے دیکھا تو وہ عبداللہ ذو النجادین تھا ۔
_____________________
أخرجه أحمد (4 / 337) عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن ابن الأدرع قال:
" كنت أحرس النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة، فخرج لبعض حاجته، قال: فرآني
فأخذ بيدي، فانطلقنا، فمررنا على رجل يصلي يجهر بالقرآن، فقال النبي صلى
الله عليه وسلم: " عسى أن يكون مرائيا "، قال: قلت: يا رسول الله يجهر
بالقرآن، قال، فرفض يدي، ثم قال: (فذكره) . قال: ثم خرج ذات ليلة وأنا
أحرسه لبعض حاجته، فأخذ بيدي، فمررنا برجل يصلي بالقرآن، قال: فقلت: عسى
أن يكون مرائيا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " كلا إنه أواب ". قال:
فنظرت فإذا هو عبد الله ذو النجادين ".
قلت: وهذا إسناد حسن رجاله رجال الشيخين غير هشام بن سعد وهو صدوق له أوهام
.
__________جزء: 4 /صفحہ: 285__________
والحديث بمعنى حديث " عليكم هديا قاصدا، فإنه من يشاد هذا الدين يغلبه ".
وغيره مما في معناه، وقد خرجته في " ظلال الجنة في تخريج كتاب السنة " لابن
أبي عاصم (98) ويأتي له شاهد برقم (1760) .